مسئلہ:
بعض بڑی مچھلیوں میں سرخ رطوبت زیادہ نکلتی ہے ، حضرات فقہاء کرام کی رائے یہ ہے کہ وہ حقیقت میں خون نہیں ہے، کیوں کہ خون کی علامت یہ ہے کہ جب وہ سوکھتا ہے تو سیاہ پڑ جاتا ہے، اور مچھلی سے نکلنے والی رطوبت سوکھنے کے بعد سیاہ نہیں پڑتی، اس لئے راجح قول یہ ہے کہ مچھلی بڑی ہو یا چھوٹی، اور سرخ رطوبت زیادہ مقدار میں ہو یا کم مقدار میں ، بہر صورت وہ خون کے حکم میں نہیں ہے، اس لئے کپڑ ے یا جسم پر لگ جائے تو اس کا دھونا ضروری نہیں،(۱) از راہ نظافت دھولیا جائے تو بہتر ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ خون مطلقاً ناپاک نہیں ہے، بلکہ بہتا ہوا خون جو رگوں سے خارج ہوتا ہے وہ ناپاک ہے،(۲) اور مچھلی سے جو خون خارج ہوتا ہے وہ گوشت کا خون ہوتا ہے نہ کہ رگوں کا ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ودم السمک وما یعیش فی الماء لا یفسد الثوب فی قول أبی حنیفة ومحمد، کذا فی فتاوی قاضیخان۔
(۴۶/۱، الباب السابع فی النجاسة وأحکامها، الفصل الثانی فی الأعیان النجسة)
ما فی ” البحر الرائق “ : أما دم السمک فلأنه لیس بدم عن التحقیق، وإنما هو دم صورة، لأنه إذا یبس یبیض والدم یسود، وأیضاً الحرارة خاصیة الدم والبرودة خاصیة الماء، فلو کان للسمک دم لم یدم سکونه فی الماء، أطلقه فشمل السمک الکبیر إذا سال منه شيء، فإن ظاهر الروایة طهارة دم السمک مطلقاً۔
(۴۰۸/۱، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، بیروت، الفتاوی التاتارخانیة: ۱۷۸/۱، کتاب الطهارة، الفصل السابع فی النجاسات وأحکامها)
(۲)ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿قل لا أجد فیما أوحی إليَّ محرّماً علی طاعم یطعمه إلا أن یکون میتةً أو دماً مسفوحاً أو لحم خنزیر فإنه رجس﴾ ۔ (سورة الأنعام : ۱۴۵)
ما فی ” أحکام القرآن لإبن العربی “ : إن التحریم یختص بالمسفوح، قالته عائشة وعکرمة وقتادة، وروی عن عائشة أنها قالت: ” لو لا أن الله قال: ﴿أو دماً مسفوحاً﴾ لتتبّع الناس ما فی العروق ۔ (۷۶۵/۲)
