مسئلہ:
طبیہ کالج کے طلباء کو آپریشن ٹریننگ دینے کیلئے جس مینڈک کا استعمال ہوتا ہے، غالباً وہ برّی یعنی خشکی کا ہوتا ہے، جس کی انگلیوں کے درمیان پردہ نہیں ہوتا، اس میں خون ہوتا ہے، اگر دورانِ آپریشن اس کا خون یا پیشاب کپڑے یا بدن پر لگ جائے، تو تین بار دھولینے سے پاک ہوجائے گا۔ اور اگروہ بحری مینڈک (پانی میں رہنے والا، جس میں خون نہیں ہوتا) ہے، اور اس کا پیشاب کپڑے یا بدن پر لگ جائے، تو تین بار دھولینے سے پاک ہوجائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الفقه علی المذاهب الأربعة “ : ومنها فضلة الآدمی من بول وعذرة۔۔۔۔۔ومنها فضلة ما لا یوٴکل لحمه مما له دم یسیل، کالحمال والبغل، الحنفیة قالوا: فضلات غیر مأکول اللحم فیها تفصیل، فإن کانت مما یطیر فی الهواء کالغراب فنجاستها مخففة، وإلا فمغلظة۔(۲۱/۱، مبحث الأعیان النجسة وتعریف النجاسة، دارالکتب العلمیة بیروت)
ما فی ” حاشیة نور الإیضاح “ : فإن کان الضفدع بریاً یفسد الماء إذا کان له دم سائل، وهو ما لا سترة له بین أصابعه۔
(ص:۲۸، رقم الحاشیة: ۱۳، مکتبه یاسر ندیم اینڈ کمپنی)
(فتاوی شاکر خان: ۱۰۰/۱۔۱۰۱)
