پھوڑا یا پھنسی سے خون یا پیپ کا نکلنا

مسئلہ:

اگر کسی شخص کو پھوڑا پھنسی نکل آئے، اور اس سے خون پیپ نکلتا ہی رہتا ہے جس کی بناء پر اس نے اس پر روئی رکھ کر پٹی باندھ دی، اور اب خون اندرہی اندر نکلتا رہے، پٹی کی وجہ سے باہر نہ نکلے، تو اگر اتنا خون نکلے کہ اسے روکا نہ جاتا تو وہ زخم کے مقام سے آگے بڑھ جاتا، تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائیگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “ : قوله: (ولو شدّ) قال في البدائع: ولو ألقی علی الجرح الرماد أو التراب فتشرب فیه أو ربط علیه رباطاً، فابتل الرباط ونفذ، قالوا: یکون حدثاً لأنه سائل، وکذا لو کان الرباط ذا طاقتین فنفذ إلی أحدهما لما قلنا۔ (۲۶۸/۱، کتاب الطهارة، مطلب نواقض الوضوء)

ما فی ” حلبی کبیر“ : وإن مسح الدم عن رأس الجرح بقطنة أو غیرها، ثم خرج أیضاً فمسح ثم وثم أو ألقی التراب أو وضع القطن ونحوه علیه فخرج وسری فیه، ینظر فیه إن کان بحال لو ترکه ولم یمسحه ولم یضع علیه شیئاً لسال نقض وإلا فلا۔ (ص:۱۳۲، نواقض الوضوء)

اوپر تک سکرول کریں۔