مسئلہ:
دانتوں کے اندر خرابی کی وجہ سے سوراخ ہوجاتے ہیں، اور اس میں غذا کے ذرات داخل ہوکر تکلیف اور درد کا موجب بن جاتے ہیں، اس سے بچنے کیلئے ڈاکٹر بطور علاج سونا، چاندی، سیسہ یا سیمنٹ وغیرہ سے ان سوراخوں کو پُر کردیتے ہیں، تاکہ غذا کے ذرات داخل نہ ہوں، اورو ہ بدن کا جزء بن جاتے ہیں، لہذا وضو اور غسل میں اس پر پانی پہنچانا کافی ہوگا، اس کے نیچے پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے۔(۱) نیز حدیث اور فقہ میں سونے چاندی کے تاروں سے شکستہ دانتوں کو باندھنے اور سونے چاندی کی ناک بنوانے کی اجازت منقول ہے،(۲) ظاہر ہے کہ اس کے اندرونی حصہ میں پانی نہیں پہنچتا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا یشد سنه المتحرک بذهب بل بفضة، وجوّزهما محمد۔ ” الدر المختار “۔ وفی الشامی: قوله: (وجوّزهما محمد) أي جوّز الذهب والفضة، أی جوّز الشد بهما، وأما أبو یوسف فقیل معه، وقیل مع الإمام۔ (۵۲۰/۹۔۵۲۱)
ما فی ” الشامیة “ : قوله: (ویتخذ أنفاً منه) لأن الفضة تنتنه۔ ” در مختار “۔ قوله: (لأن الفضة تنتنه) الأولیٰ تنتن بلا خمیر۔۔۔۔۔۔۔۔وأصل ذلک ما روی الطحاوی بإسناده إلی عرفجة بن سعد أنه أصیب أنفه یوم الکلاب فی الجاهلیة فاتخذ أنفاً من ورق فأنتن علیه، فأمره النبیﷺ أن یتخذ أنفاً من ذهب، ففعل۔۔۔۔۔۔۔وفی التاتارخانیة: وعلی هذا الاختلاف إذا جدع أنفه أو أذنه أو سقط منه، فأراد أن یتخذ سناً آخر، فعند الإمام یتخذ ذلک من الفضة فقط وعن محمد من الذهب أیضاً۔
(۵۲۱/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی اللبس)
ما فی ” ما لا بد منه فارسی “ : بستن دندان شکسته به تار نقره جائز است، نه باتار زر، ونزد صاحبین به تار زر هم جائز است ۔ (ص:۱۱۰)
(۲) ما فی ” الدر المختار “ : ولایمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین أسنانه أو فی سنه المجوف، به یفتی ۔ الدر المختار ۔ (۲۸۹/۱، مطلب فی أبحاث الغسل)
(فتاوی رحیمیه: ۱۸/۴۔۱۹)
