مسئلہ:
اذان کے بعد اعلان کرنا کہ ”جماعت کا وقت ہوچکا یا جماعت کھڑی ہوچکی“ درست ہے، کیوں کہ متاخرین فقہاء نے اذان کے بعد علی الاطلاق تثویب کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، نیز تثویب کیلئے کوئی مخصوص لفظ نہیں ہے، بلکہ ہر علاقہ میں اس لفظ سے تثویب کی جاسکتی ہے ، جو ان کے نزدیک متعارف ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” مراقی الفلاح “ : ویثوب بعد الأذان فی جمیع الأوقات لظهور التوانی فی الأمور الدینیة فی الأصح، وتثویب کل بدل بحسب ما تعارفه أهلها ۔قوله: (فی جمیع الأوقات) استحسنه المتأخرون۔ (ص:۱۹۸)
ما فی ” کتاب المبسوط “ :والتثویب فی کل بلدة ما یتعارفونه ۔۔۔۔۔ ولا تثویب إلا فی صلوٰة الفجر (ولکن یقال فی هذه العبارة) أما المتأخرون فاستحسنوا التثویب فی جیمع الصلوات، لأن الناس قد ازدادهم الغفلة، وقلما یقومون عند سماع الأذان فیستحسن التثویب للمبالغة فی الإعلام، ومثل هذا یختلف باختلاف أحوال الناس۔ (۱/۲۷۴)
ما فی ” البحر الرائق “ : وأطلق فی التثویب فأفاد أنه لیس لفظ یخصه بل تثویب کل بلد علی ما تعارفوه (إلی قوله) وأفاد أنه لا یخص صلوٰة، بل هو فی سائر الصلوات، وهو اختیار المتأخرین لزیادة غفلة الناس۔ (۴۵۳/۱، باب الأذان)
(فتاوی محمودیه :۵۰۳/۵)
