مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نمازمیں استقبالِ قبلہ شرط ہے،(۱) تو جس طرح دیگر شرائط میں سے کسی شرط کے فقدان سے نماز درست نہیں ہوتی ہے، اسی طرح قبلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں تحری کرکے نماز پڑھ لی جائے، پھر خطا ظاہر ہو تو نماز درست نہیں ہونی چاہیے، جب کہ ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ استقبال قبلہ کی شرطیت صرف نماز کی تکمیل اور نماز میں ملت کی شیرازہ بندی کیلئے ہے، نماز کا اصل فائدہ اس کے بغیر بھی حاصل ہوجاتا ہے،(۲) جب کہ دیگر شرائط، طہارت وغیرہ اس لئے شرط ہیں کہ ان کے بغیر نماز کی حقیقت ہی وجود میں نہیں آتی، اس لئے اگر کسی شخص کو قبلہ معلوم نہ ہو اور وہ تحری کرکے نماز پڑھ لے گرچہ بعد میں خطا ظاہر ہو جائے، تب بھی اس کی نماز درست ہوجائے گی۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” بدائع الصنائع “ : أما شرائط أرکان الصلوٰة ۔۔۔۔۔۔ منها استقبال القبلة لقوله تعالی: ﴿فول وجهک شطر المسجد الحرام، وحیث ما کنتم فولوا وجوهکم شطره﴾ وقول النبی ﷺ: ”لایقبل الله صلوٰة امرئٍ حتی یضع الطهور مواضعه، ویستقبل القبلة ویقول: الله اکبر“۔ وعلیه إجماع الأمة۔ (۵۴۶/۱۔۵۴۷، کتاب الصلوٰة)
(۲) ما فی ” حجة الله البالغة “ : ولما کان استقبال القبلة شرطاً، إنما أرید به تکمیل الصلاة، ولیس شرطاً لا یتأتی أصل فائدة الصلوٰة إلا به۔
(۴۳۹/۱، القبلة، دار المعرفة بیروت)
(۳) ما فی ” السنن للترمذي “ : عن عبد الله بن عامر بن ربیعة عن أبیه قال : کنا مع النبی ﷺ فی سفر فی لیلة مظلمة فلم ندر أین القبلة؟ فصلی کل رجل منا علی جباله، فلما أصبحنا ذکرنا ذلک للنبی ﷺ فنزل: ﴿فأینما تولوا فثم وجه الله﴾ قال أبوعیسی: قالوا: إذا صلی فی الغیم لغیر القبلة، ثم استبان له بعد ما صلی أنه صلی لغیر القبلة، فإن صلوٰته جائزة۔ (۲۵۷/۱، أبواب الصلوٰة، ما جاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم ، بیروت، رقم الحدیث: ۳۴۵)
ما فی ” شرح الوقایة “ : فإن جهلها وعدم من یسأله تحری ولم یعد إن أخطأ۔ (۱۳۷/۱، کتاب الصلوٰة، باب شروط الصلوٰة)
