اخیر کی ایک یا دو رکعتوں میں سورت ملانا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ چار یا تین رکعت والی فرض نماز کی اخیری رکعتوں میں سورت ملانے سے، رکوع میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سجدہٴ سہو واجب ہوتا ہے، جب کہ یہ خیال درست نہیں ہے، کیوں کہ صحیح بات یہ ہے کہ اخیر کی دو یا ایک رکعت میں سورت ملانے سے سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوتا ہے، یہی ظاہر روایت ہے، کیوں کہ اخیر کی رکعتوں میں بلا کسی تعیین کے قرأت مشروع ہے، نیز اخیر کی رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ پر اکتفاء کرنا مسنون ہے، اور سورت ملانا خلافِ سنت ہے، اور سجدہٴ سہو ترکِ واجب سے لازم ہوتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وضم أقصر سورة فی الأولیین من الفرض وهل یکره فی الأخریین؟ المختار لا ۔ الدر المختار ۔ قال العلامة ابن عابدین الشامی تحت قوله: (المختار لا) أی لا یکره تحریماً بل تنزیهاً، لأنه خلاف السنة، قال فی المنیة وشرحها: فإن ضم السورة إلی الفاتحة ساهیاً یجب علیه سجدتا السهو فی قول أبی یوسف لتأخیر الرکوع عن محله، وفی أظهر الروایات لا یجب، لأن القراءة فیهما مشروعة من غیر تقدیر، والإقتصار علی الفاتحة مسنون لا واجب، وفی البحر عن فخر الإسلام أن السورة مشروعة فی الأخریین نفلاً، وفی الذخیرة: أنه المختار، وفی المحیط: وهو الأصح، والظاهر أن المراد بقوله نفلاً الجواز، والمشروعیة بمعنی عدم الحرمة فلا ینافی کونه خلاف الأولیٰ کما أفاده فی الحلیة۔(۱۵۰/۲، کتاب الصلاة، باب صفة الصلوٰة، مطلب واجبات الصلوٰة)

ما فی ” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید “ : لو ضم سورة فی الرکعتین الأخریین من الفریضة یکره تنزیهاً لمخالفته السنة۔ (۲۱۰/۱، کتاب الصلوٰة ، واجبات الصلوٰة)

ما فی ” البحر الرائق “ : ولو ضم السورة إلی الفاتحة فی الأخریین لا سهو علیه فی الأصح۔(۱۶۷/۲، کتاب الصلوٰة، باب سجود السهو)

(فتاوی دارالعلوم: ۳۷۵/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔