کرایہ پر چلائی جانے والی گاڑیوں پر زکوة

مسئلہ:

جو گاڑیاں کرایہ پر چلتی ہیں جیسے ٹرک، ٹیکسی اور رکشہ وغیرہ، ان پر زکوٰة واجب نہیں ہے،(۱) کیوں کہ اس صورت میں ان گاڑیوں کو باقی رکھتے ہوئے ان سے منفعت حاصل کرنا مقصود ہے، البتہ اگر ان سے حاصل منفعت کی مالیت بقدر نصاب ہو اور اس پر سال گذر جائے تو ڈھائی فیصد زکوٰة واجب ہوگی ۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” فتاوی قاضی خان “ : ولو اشتری قدوراً من صفر یمسکها أو یوٴاجرها، لا تجب فیها الزکوٰة کما لا تجب فی بیوت الغلة، وکذا لو اشتری جوالق بعشر آلاف درهم لیوٴاجر من الناس فحال علیه الحول لا زکوٰة فیها لأنه اشتراها للغلة۔(۱۲۰/۱، فصل فی التجارة)

ما فی ” فتح القدیر “ : ولیس فی دور السکنی ۔۔۔۔۔ وسلاح الاستعمال زکوٰٰة وعلی هذا کتب العلم لأهلها وآلات المحترفین، قوله: (آلات المحترفین) یرید بها ما ینتفع بعینه ولا یبقی أثره فی المعمول کالصابون والحرض وغیرهما کالقدور وقواریر العطار ونحوها لکون الأجر حینئذ مقابلاً بالمنفعة فلا یعد من مال التجارة۔

(۱۷۳/۲، کتاب الزکاة، الشامیة: ۱۶۶/۳، مطلب فی زکاة ثمن المبیع وفاءً، الفتاوی الهندیة: ۱۷۲/۱، کتاب الزکاة، الباب الأول، هدایه: ۱۸۶/۱، البحر الرائق:۳۶۱/۲)

(۲) ما فی ” الدر المختار “ : (وسببه) أي سبب افتراضها (ملک نصاب حولي)۔(۱۶۳/۳، کتاب الزکوٰة، البحر الرائق: ۲/۳۵۵، کتاب الزکوٰة)

اوپر تک سکرول کریں۔