مسئلہ:
کسی آدمی نے اپنے نابالغ لڑکے کے نام سے بینک یا ڈاکخانہ میں روپیہ جمع کیا ، اور وہ روپیہ اسی نابالغ کی ملک ہے، گرچہ وہ روپیہ نصاب یا اس سے زیادہ ہو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے، کیوں کہ وجوب زکوٰة کیلئے بالغ ہونا ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار “ : وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحریة ۔(۱۷۳/۳، کتاب الزکاة، البحر الرائق: ۳۵۲/۲، کتاب الزکاة، الهدایة: ۱۸۵/۱، کتاب الزکاة)
ما فی ” المحیط البرهانی “ : ومن جملة الموانع الصبی والجنون حتی لا تجب الزکوٰة فی مال الصبی والمجنون عندنا۔ (۴۵۰/۲، کتاب الزکاة، الفصل العاشر ما یمنع وجوب الزکاة)
(فتاوی محمودیه: ۴۲/۱۴)
