کھیتی باڑی والے شخص کا زکوة لینا

مسئلہ:

کسی شخص کے پاس بہت سی کھیتی باڑی کی زمین ہے، جس کی قیمت لاکھوں روپئے ہوتی ہیں، مگر وہ آباد نہیں ہے، اس سے پیداوار نہیں ہوتی ہے، یا ہوتی تو ہے مگر اتنی نہیں ہوتی کہ جس سے اس کی اور اس کے بال بچوں کی سال بھر کی ضرورتیں پوری ہوجائیں، تو ایسا شخص بھی زکوٰة لے سکتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی : له أرض یزرعها أو حانوت یستغلها أو دار غلتها ثلاثة آلاف ولا تکفی لنفقته ونفقة عیاله سنة یحل له أخذ الزکوٰة وإن کانت قیمتها تبلغ ألوفا، وعلیه الفتویٰ۔(۲۹۶/۳، کتاب الزکوٰة، باب المصرف، قبیل مطلب فی جهاز المرأة)

ما فی ” البحر الرائق “ : ویحل لمن له دور وحوانیت تساوی نصاباً وهو محتاج لغلتها لنفقته ونفقة عیاله۔ (۴۲۷/۲، کتاب الزکوٰة، باب المصرف)

ما فی ” فتح القدیر “ : لو کان له حوانیت أو دار غلة تساوی ثلاثة آلاف وغلتها لا تکفی لقوته وقوت عیاله یجوز صرف الزکوٰة إلیه۔

(۲۸۲/۲ ، کتاب الزکوٰة، باب من یجوز دفع الصدقة، الفتاوی التاتارخانیة: ۴۴/۲ ، کتاب الزکوٰة، الفصل الثانی بمن توضع فیه الزکوٰة)

(فتاوی محمودیه: ۲۰۵/۱۴)

اوپر تک سکرول کریں۔