غیر محرم وکیل اور شاہدوں کا لڑکی سے اجازت لینا

مسئلہ:

آج کل نکاح کے موقع پر ، نکاح کی اجازت لینے کیلئے ایک وکیل اور دو شاہد لڑکی کے پاس جاتے ہیں، اور بسا اوقات یہ وکیل اور دونوں شاہد غیر محرم ہوتے ہیں،(۱) جب کہ اجازت لینے کیلئے وکیل اور گواہ محرم ہونا چاہیے، بالخصوص جب لڑکی بالغہ ہو اور اس کا ولی (سر پرست) موجود ہو، تو وہ خود لڑکی سے اجازت لے لے، یعنی اس سے کہدے کہ میں فلاں لڑکی سے اتنے مہر پر تمہارا نکاح کرتا ہوں، کیا تم کو منظور ہے؟ اس پر اگر لڑکی اجازت دیدے یا خاموش رہے، تو بس اتنا کا فی ہے،(۲) اس کیلئے نہ گواہ کی ضرورت ہے نہ وکیل کی، اور اگر ولی موجود نہ ہو تو لڑکی اپنے کسی محرم (جس کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہے ) کو وکیل بنادے، اس کے لیے بھی گواہ ضروری نہیں ہے، اگر کوئی محرم موجود نہ ہو تو وہ غیر محرم کو بھی بذریعہ تحریر یا زبانی پردہ کے پیچھے سے وکیل بنادے، تب بھی کافی ہے، یا خود لڑکے کو وکیل بنادے کہ آپ میرا نکاح اپنے سے کرلیں، خواہ یہ وکیل بنانا زبانی ہو یا تحریری، یہ سب صورتیں درست ہیں،(۳) قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ غیر محرم شخص وکیل یا گواہ بن کر لڑکی کے پاس بے پردہ نہ جائے ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن الحسن مرسلاً قال: بلغنی أن رسول الله ﷺ قال: ” لعن الله الناظر والمنظور إلیه “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان ۔

(ص:۲۷۰، کتاب النکاح، باب النظر إلی المخطوبة، مکتبه رشیدیه محله مبارک شاه، سهارنفور)

(۲) ما فی ” الدر المختار “ : فإن استأذنها هو أی الولی فسکتت أو ضحکت أو تبسمت أو بکت بلا صوت فهو إذن۔ (۱۵۹/۴، کتاب النکاح، باب الولی)

ما فی ” مختصر القدوری “ : وإذا استأذنها الولی فسکتت أو ضحکت أو بکت بغیر صوت فذلک إذن منها۔ (ص:۱۵۹، کتاب النکاح)

(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : یصح التوکیل بالنکاح ۔۔۔۔۔ امرأة وکلت رجلاً بأن یزوجها عن نفسه فقال: زوجت فلانة من نفسی یجوز، وإن لم تقل قبلت، کذا فی الخلاصة۔ (۲۹۴/۱۔۲۹۵، کتاب النکاح، الباب السادس فی الوکالة بالنکاح)

(فتاوی محمودیه: ۱۸۱/۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔