منہ بولی اولاد کو اپنی طرف منسوب کرنا

مسئلہ:

بسا اوقات کسی شخص کو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے، وہ دوسرے کی اولاد کو گود لیتا ہے، اورولدیت میں بجائے اس کے والد کے نام کے، اپنا نام لکھتا ہے، اور اسی کو شہرت بھی دیتا ہے، شرعاً اس طرح ولدیت کو بدلنا درست نہیں ہے،(۱) اگر اس طرح لڑکے کا نکاح کسی لڑکی کے ساتھ کردیا گیا اور نکاح کے رجسٹر میں بھی اس کے اصل والد کے نام کی جگہ گود لینے والے کا نام باقی رکھا گیا، اور وہ لڑکا مجلس نکاح میں حاضر تھا، تو نکاح ہوجائے گا ، اس میں کوئی خرابی نہیں آئے گی، کیوں کہ والد کے نام کی ضرورت جہالت کو دور کرنے کیلئے ہوتی ہے، جب کہ لڑکے کے مجلس نکاح میں حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿أدعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله﴾ ۔ (سورة الأحزاب:۵)

ما فی ” عون المعبود “ : عن سعد بن مالک قال : سمعته أذنای ووعاه قلبی من محمد أنه قال: ” من ادّعی إلی غیر أبیه وهو یعلم أنه غیر أبیه ، فالجنة علیه حرام “ ۔

(ص:۲۱۸۲ ، کتاب الأدب، باب فی الرجل ینتمي إلی غیر موالیه، رقم الحدیث: ۵۱۱۳)

(۲) ما فی ” الشامیة “ :الحاصل أن الغائبة لا بد من ذکر اسمها واسم أبیها وجدها وإن کانت معروفة عند الشهود علی قول ابن الفضل، وعلی قول غیره: یکفی ذکر اسمها إن کانت معروفة عندهم، وإلا فلا، وبه جزم صاحب الهدایة فی التجنیس وقال: لأن المقصود من التسمیة التعریف وقد حصل، وأقره فی الفتح والبحر۔

(۹۰/۴، کتاب النکاح، مطلب الخَصَّافُ کبیرٌ في العلم یجوز الاقتداء به، بیروت)

ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : إذا ذکروا فی النکاح اسم رجل وکنیة أبیه ولم یذکروا إسم أبیه إن کان الرجل حاضراً مشاراً إلیه جاز۔

(۲۶۰/۲، کتاب النکاح، الفصل الخامس فی تعریف المرأة والزوج)

(فتاوی محمودیه:۱۱۵/۱۶)

اوپر تک سکرول کریں۔