مسئلہ:
شادی کے موقع پر لڑکے یا اس کے گھر والوں کا لڑکی کے گھر والوں سے سامان ، یا نقد رقم کا مطالبہ شرعاً رشوت اور حرام ہے، لڑکے والوں پر اس کی واپسی لازم ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” تم لوگوں کا مال باطل اور ناجائز طریقہ سے مت کھاوٴ“۔(۱) اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے :”کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی اور خوش دلی کے بغیر کھانا جائز نہیں ہے“۔(۲)
لہذا شادی کے موقع پر لڑکے والوں کا، لڑکی والوں سے نقد یا سامان کا مطالبہ شرعاً ناجائز ہے، اور اگر لڑکی والے بلا مطالبہ دیں تب بھی اس کا لینا جائز نہیں ہے، کیوں کہ فقہ کا مسلم اصول ہے: ” المعروف کالمشروط “ (۳)، کہ جو چیز ما حول اور معاشرت میں عام ہو اس کو شرط لگاکر لیں، یا بلا شرط لگاکر لیں ، دونوں کا حکم یکساں ہے ۔ البتہ لڑکی کے ماں باپ وغیرہ اپنی لڑکی کو ،اپنی وسعت کے مطابق سامانِ جہیز دے سکتے ہیں(۴)، اور یہ لڑکی کی ملک ہوگا،نہ کہ لڑکے کی۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾ ۔(سورة النساء :۲۹)
(۲) ما فی ” مشکوة المصابیح “ : قال رسول الله ﷺ: ” لا یحل مال امرئ مسلم إلا بطیب نفس منه “۔ (ص:۲۵۵، السنن الکبریٰ للبیهقی: ۱۶۶/۶)
ما فی ” الشامیة “ : لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي۔
(۷۷/۶، کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب فی التعزیر بأخذ المال، البحر الرائق:۶۸/۵، کتاب الحدود، فصل فی التعزیر)
(۳) ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : المعروف عرفاً کالمشروط شرطاً۔(۵۱/۱، رقم المادة: ۴۳، شرح القواعد الفقهیة لعلي أحمد الندوي: ص:۲۳۷)
(۴) ما في ” السنن للنسائي “ : عن علي رضي الله عنه قال: ” جهز رسول الله ﷺ فاطمة في خمیل وقربة ووسادة حشوها اذخر“۔ (۷۷/۲، باب جهاز الرجل ابنته)
ما في” النهر الفائق“ : ولو جهز بنته وسلمه إلیها لیس له في الاستحسان استرداده منها، وعلیه الفتوی۔ (۲۶۵/۲، کتاب النکاح، باب المهر)
(فتاوی محمودیه: ۴۰۵/۱۷)
