مسئلہ:
جس شادی میں سہرا باندھنا، آتش بازی، فوٹو گرافی، ویڈیو سازی اور دیگر رسومات وخرافات ہوں، تو ایسی شادی میں شرکت کرنا ، خاص کر ان حضرات علماء کیلئے جو مقتداء ہوں ، اور پہلے سے انہیں اس کا علم بھی ہو درست نہیں ہے، اور اگر پہلے سے اس کا علم نہیں تھا اور حاضر ہوگیا تو ان خرافات سے روک دیں، اور اگر روکنے کی قدرت نہیں تو واپس چلے آئیں ، اور شرکت نہ کریں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظٰلمین﴾ ۔ (سورة الأنعام :۶۸)
ما فی ” صحیح البخاري “ : ورأی ابن مسعود صورةً فی البیت فرجع، ودعا ابن عمر أبا أیوب فرأی فی البیت ستراً علی الجدار، فقال ابن عمر: غَلَبَنَا علیه النساء، فقال: من کنت أخشیٰ علیه فلم أکن أخشیٰ علیک، والله لا أطعم لکم طعاماً فرجع۔
(ص:۹۵۳، کتاب النکاح، باب هل یرجع إذا رأی منکراً فی الدعوة، رقم الحدیث: ۸۱۵۱، دار احیاء التراث العربي بیروت)
ما فی ” الدر المختار مع الشامی “ : دعي إلی ولیمة وثمة لعب أو غناء ۔۔۔۔۔ فلو علی المائدة لاینبغی أن یقعد بل یخرج معرضاً لقوله تعالی: ﴿فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین﴾ فإن قدر علی المنع فعل وإلا صبر إن لم یکن ممن یقتدیٰ به، فإن کان مقتدی ولم یقدر علی المنع خرج ولم یقعد، لأن فیه شین الدین، وإن علم أولاً لا یحضر أصلاً۔
(۵۰۱/۹۔۵۰۲، کتاب الحظر والإباحة، قبیل فصل فی اللبس)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : من دعی إلی ولیمة فوجد ثمة لعبا أو غناء فلا بأس أن یقعد ویأکل، فإن قدر علی المنع یمنعهم، وإن لم یقدر یصبر، هذا إذا لم یکن مقتدی به، أما إذا کان ولم یقدر علی منعهم، فإنه یخرج ولا یقعد، ولو کان ذلک علی المائدة لا ینبغی أن یقعد، وإن لم یکن مقتدی به، وهذا کله بعد الحضور، أما إذا علم قبل الحضور فلا یحضر، لأنه لا یلزمه حق الدعوة۔(۳۴۳/۵، کتاب الکراهیة، الباب الثانی عشر فی الهدایا، البحر الرائق: ۱۸۸/۸، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی الأکل والشرب)
ما في ” مشکوٰة المصابیح “ :عن أبي سعید الخدري، عن رسول الله ﷺ قال: ” من رأی منکم منکراً فلیغیره بیده، فإن لم یستطع فبلسانه، فإن لم یستطع فبقلبه، وذلک أضعف الإیمان “۔ رواه مسلم (ص:۴۲۶، باب الأمر بالمعروف، الفصل الأول)
(فتاوی محمودیه: ۴۴۱/۱۷)
