نکاح والوں سے مسجد کے لیے رقم لینا

مسئلہ:

بعض گاوٴں اور علاقوں میں نکاح کے موقع پر نکاح خوانی کی اجرت کے علاوہ لڑکے اور لڑکی والوں کی طرف سے، مسجد کیلئے ایک مقرر رقم لی جاتی ہے، اور اس کا دینا لازم وضروری سمجھا جاتا ہے، شرعاً اس طرح اس رقم کا لینا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس رقم کا استعمال مصارف مسجد میں درست ہے، ہاں لڑکے لڑکی والے بخوشی کچھ رقم دیدیں، تو اس کے لینے کی اجازت ہے، پابندئ رسم کی وجہ سے مجبوراً دیں تو درست نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” مشکوة المصابیح “ : قال رسول الله ﷺ: ” ألا لا تظلموا ، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه “۔ (ص:۲۵۵ ، باب الغصب والعاریة، الفصل الثاني)

ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بلاإذنه ۔۔۔۔ وفیه أیضاً: لا یجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي۔

(۱۹۶/۱۔ ۱۹۸، رقم المادة: ۹۶۔ ۹۸)

ما فی ” الشامیة “ : قال الشامي: قال تاج الشریعة: أما لو أنفق فی ذلک مالاً خبیثاً، ومالاً سببه الخبیث والطیب فیکره، لأن الله تعالی لا یقبل إلا الطیب، فیکره تلویث بیته بما لا یقبله۔(۳۷۳/۲، کتاب الصلوٰة، مطلب کلمة لا بأس)

(فتاوی محمودیه: ۴۶۵/۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔