مسئلہ:
اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق وغیرہ کے ذریعہ جدائیگی ہوجائے اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں ، تو لڑکا سات سال کا ہونے تک اور لڑکی بالغہ ہونے تک ماں کی پرورش میں رہیں گے،(۱) اور ان کا خرچ باپ کے ذمہ واجب ہوگا۔(۲)
رہی خرچ کی مقدار تو وہ شریعت نے متعین نہیں کی، اس کی مقدار زمانہ کے نرخ اجناس وغیرہ کے اعتبار سے، باہمی مصالحت یا جماعت کے مشورہ سے طے کی جائے گی، اور شوہر کو وہ مقدار تسلیم کرنی ہوگی ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن عبد الله بن عمرو أن امرأة قالت: یا رسول الله ﷺ! إن ابني هذا کان بطني له وعاء، ویدیی له سقاء، وحجری له حواء، وإن أباه طلقنی، وأراد أن ینزعه منی، فقال لها رسول الله ﷺ: ” أنت أحق به ما لم تنکحی “۔(ص:۳۱۰، کتاب الطلاق، باب من أحق بالولد)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : والأم والجدة أحق بالغلام حتی یستغنی، وقدر بسبع سنین، وقال القدوری: حتی یأکل وحده ویشرب وحده، ویستنجی وحده، وقدره أبو بکر الرازی بتسع سنین، والفتوی الأول، والأم والجدة أحق بالجاریة حتی تحیض۔ (۵۴۲/۱، الباب السادس عشر فی الحضانة)
(۲) ما فی ” المبسوط للسرخسی “ : إن النفقة بعد الفطام علی الأب لا یشارکه أحد فی ذلک باعتبار أن الولد جزء منه، والانفاق علیه کالإنفاق علی نفسه۔
(۱۹۶/۶، باب حکم الولد عند افتراق الزوجین)
ما فی ” الهدایة “ : ونفقة الأولاد الصغار علی الأب، لا یشارکه فیها أحدکما لا یشارکه فی نفقة الزوجة۔
(۴۴۴/۲، کتاب الطلاق، باب النفقة ، کذا فی الکافی فی الفقه الحنفی: ۱۰۴۶/۳، نفقة الحضانة علی من)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویقدر بقدر الغلاء والرخص ولا تقدر بدراهم ودنانیر ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی: أی یراعی کل وقت أو مکان بما یناسبه ۔۔۔۔۔ أی لا تقدر بشيء معین بحیث لا یزید ولا تنقص فی کل مکان وزمان ۔۔۔۔۔ وإنما علی القاضی فی زماننا اعتبار الکفایة بالمعروف کما فی الذخیرة۔
(۲۳۶/۵، باب النفقة، مطلب فی أخذ المرأة کفیلا بالنفقة، المبسوط للسرخسی: ۷۳/۵، باب النفقة)
(فتاوی رحیمیه: ۴۵۲/۸)
