تعمیر سے پہلے فلیٹ کی خرید وفروخت کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

آج کل بلڈنگ کے تعمیر ہونے سے پہلے ہی، اس کے فلیٹوں (Flats) کی خریدوفروخت شروع ہوجاتی ہے، اورضروری پیمینٹ کی ادائیگی کی وجہ سے وہ فلیٹ بکنگ کرنے والوں کو ملک کے بعد ہی دیا جاتا ہے، اس لئے جائز ودرست ہے۔(۱)

واضح ہو کہ ایسی صورت حال میں کسی بلڈنگ کی مکمل تعمیر سے پہلے، اس میں تعمیر کئے جانے والے دفاتر یا مکانات وغیرہ کا خریدنا اور بک کروانا، اگر محض پہلی مرتبہ ہی ہو، توبیع استصناع کے طور پر جائز ودرست ہے، پھر بیع استصناع میں جب تک شئ تیار کرکے مشتری کے سپر د اور حوالہ نہ کی جائے ، تو اس وقت تک مشتری کی ملک نہ ہونے اور شئ کے معدوم ہونے کی بناء پر اس کا آگے کسی دوسرے کے نام فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا محض قانونی اجازت اور کاغذات کو بنیاد بناکر اسے آگے بیچنا اور اس پر بروکری (دلالی)کرنا اور کمیشن لینا ہر دو امور شرعاً ناجائز اور ممنوع ہیں، جن سے اجتناب واحتراز لازم ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” المبسوط للسرخی “ : وإذا استصنع الرجل عند الرجل خفین أو قلنسوة أو طستاً أو کوزاً من أوانی النحاس فالقیاس أن لا یجوز ۔۔۔۔۔۔۔ ولکنا نقول: نحن ترکنا القیاس لتعامل الناس فی ذلک، فإنهم تعاملون من لدن رسول الله ﷺ إلی یومنا هذا من غیر نکیر منکر، وتعامل الناس من غیر نکیر أصل من الأصول کبیر۔

(۱۶۵/۱۲، کتاب البیوع)

ما فی ” الکافی فی فقه الحنفی “ : الاستصناع شرعاً: أن یقول لصاحب خف أو صفار (نحاس): اصنع لی طوله کذا، وسعته کذا مما تعورف ۔۔۔۔۔۔ وقد تعارف الناس الیوم الاستصناع فی البیوع، فیعرض المقاول مشروع، عمارة فیها بیان سعة کل شقة وغرفها، وطول الغرف وعرضها ونوع مواد البناء المختلفة ونوع البلاط والدهان، ویطلب کذا، وأن یسلمها بتاریخ کذا وکذا، ویبین ثمن الشقة وأنه یطلب ثمنها علی أقساط کذا وکذا إلی تمام البناء، فهل یعد استصناعاً، إذا تحقق انتفاء ما یجلب النزاع والحاجة إلیه ما سة، أری أنه إذا انتفی التنازع والخلاف فلا بأس به للعادة۔ (۱۱۴۴/۳، کتاب البیوع، الاستصناع)

ما فی ” الهدایة “ : وإن استصنع شیئاً من ذلک (أی فی طشت أو قمقمة و خف وغیره) بغیر أجل جاز استحساناً للإجماع الثابت بالتعامل، وفی القیاس لا یجوز، لأنه بیع المعدوم ، والصحیح أنه یجوز بیعاً لا عدة، والمعدوم قد یعتبر موجوداً حکماً۔ (۸۴/۳، کتاب البیوع، باب السلم)

(۲) ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : للمبیع شروط؛ هی أن یکون المبیع موجوداً حین العقد، فلایصح بیع المعدوم، وذلک باتفاق العلماء۔ (۱۴/۹، البیع)

ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : المال هو یمیل إلیه طبع الإنسان ویمکن ادخاره إلی وقت الحاجة منقولاً أو غیر منقولاً ۔۔۔۔۔ وکما کان المعدوم لا یمکن احرازه ولا ادخاره فلیس بمال، والبیع بما لیس بمال باطل، فبیع المعدوم باطل۔ (۱۷۷/۱، المادة: ۱۹۷)

اوپر تک سکرول کریں۔