مسئلہ:
بعض لوگ پیاز، لہسن، آلو، گیہوں وغیرہ کے موسم میں ان کو خرید کر جمع کرلیتے ہیں، اور جب یہ چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں، تب ان کو بیچتے ہیں، اگر ان کے اس عمل سے بازار میں ان اشیاء کی کمی واقع نہیں ہوتی اور عام لوگوں کو کوئی تنگی پیش نہیں آتی، تو یہ ممنوع ذخیرہ اندوزی میں داخل نہیں ہے، اور ان چیزوں کے موسم گذرجانے کے بعد ان کو اس قدر گراں بیچنا جو قابل برداشت ہو، اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن اگر اس ذخیرہ اندوزی سے بازار ومارکیٹ میں ان اشیاء کی کمی واقع ہوجاتی ہے، اور لوگوں کو تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موسم گذر جانے پر ان کو اس قدر گراں بیچا جاتا ہے، جو ناقابل برداشت ہے، تو یہ سخت گناہ کی بات اور ان کا یہ عمل باعثِ لعنت ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” السنن لإبن ماجة “ : عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله ﷺ: ” الجالب مرزوق، والمحتکر ملعون “۔ (ص/۱۵۶، أبواب التجارات، باب الحکرة والجلب)
ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن معمر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ: ” لا یحتکر إلا خاطئ“۔(۳۱/۲، کتاب المساقاة والمزارعة، باب تحریم الاحتکار فی الأقوات)
ما فی ” شرح مسلم للنووی “ : قال العلماء: والحکمة فی تحریم الاحتکار دفع الضرر عن عامة الناس۔ (۱۲۱/۶، رقم الحدیث: ۱۶۰۵، دار احیاء التراث العربي بیروت)
ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه مع الشامیة “ : وکره احتکار قوت البشر کتین وعنب ولوز والبهائم کتبن وقت فی بلد یضر بأهل لحدیث: ” الجالب مرزوق والمحتکر ملعون “۔ فإن لم یضر لم یکره ۔ التنویر مع الدر ۔ قال الشامی: والتقیید بقوت البشر قول أبی حنیفة ومحمد، وعلیه الفتوی، کذا فی الکافی، وعن أبی یوسف: کل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتکار۔(۴۸۶/۹۔۴۸۷، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وإن اشتری فی ذلک المصر وحبسه ولا یضر بأهل المصر لا بأس به، کذا فی التاتارخانیة ناقلاً عن التجنیس، وإذا اشتری من مکان قریب من المصر فحمل طعاماً إلی المصر وحبسه، وذلک یضر بأهله فهو مکروه۔
(۲۱۳/۳، الباب العشرون فی البیاعات المکروهة، فصل فی الاحتکار، البحر الرائق: ۳۶۹/۸۔۳۷۰ ، کتاب الکراهیة، فصل فی البیع، تبیین الحقائق: ۶۰/۷، کتاب الکراهیة، فصل فی البیع، مجمع الأنهر: ۲۱۳/۴، کتاب الکراهیة، فصل فی البیع، المحیط البرهانی: ۲۶۶/۸، کتاب البیع، فصل فی الاحتکار)
(فتاوی محمودیه: ۲۳۴/۱۶)
