مسئلہ:
بعضے طلباء باوجود اس کے کہ انہیں دارالاقامہ میں رہنے کی جگہ دی گئی ہوتی ہے ، پھر بھی روزانہ مسجد ہی میں سوتے ہیں، ان کا یہ عمل مکروہ اور احترام مسجد کے خلاف ہے،(۱) ہاں! اگر کسی پر نیند کا غلبہ ہو، اور اس کی جماعت ترک ہوتی یا نماز قضاء ہوجاتی ہے، اور مسجد میں سونے سے نماز با جماعت کی پابندی نصیب ہوتی ہے، یا تہجد کی توفیق ہوتی ہے، یا مسجد کی حفاظت مقصود ہوتی ہے یا کوئی اور دینی ضرورت ہے، جو بغیر مسجد میں سوئے حاصل نہیں ہوتی ہے، تو اس کیلئے اجازت ہے، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بھی دینی ضرورت کیلئے مسجد میں سوتے تھے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ویکره النوم والأکل فیه بغیر المعتکف۔
(۳۲۱/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس فی آداب المسجد، حلبي کبیر:ص:۶۱۲، فصل فی أحکام المسجد)
(۲) ما فی ” صحیح البخاري “ : عن نافع قال: أخبرنی عبد الله بن عمر أنه کان ینام وهو شاب أعزب، لا أهل له فی مسجد النبی ﷺ۔
( ۱/ ۶۳ ، کتاب الصلوٰة، باب نوم الرجال فی المسجد)
ما فی ” عمدة القاری “ : ذکر ما یستنبط منه، وهو جواز النوم فی المسجد لغیر الغریب، وقد اختلف العلماء فی ذلک، فممن رخص فی النوم فیه ابن عمر، وقال: کنا نبیت فیه ونقیل علی عهد رسول الله ﷺ ، وعن سعید بن المسیب والحسن البصری إلی قوله ۔۔۔۔۔۔۔ فروی عنه أنه قال: ” لا تتخذوا المسجد مرقداً “۔ وروی عنه أنه قال: ” إن کنت تنام فیه لصلوٰة فلا بأس “ ۔۔۔۔۔۔۔ وذکر الطبری عن الحسن قال: رأیت عثمان بن عفان نائماً فیه، لیس حوله أحد، وهو أمیر الموٴمنین ۔ قال: وقد نام فی المسجد جماعة من السلف بغیر محذور للانتفاع به۔ (۲۹۳/۴، کتاب الصلوٰة، باب نوم الرجال فی المسجد، مکتبه رشیدیه کوئٹه)
