مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ گھر میں پالے ہوئے جانور کے بارے میں اگر کسی شخص نے قربانی کی نیت کرلی، تو اس نیت سے اس جانور کی قربانی کرنا لازم ہوجاتا ہے، اور ایسے جانور کو بدلنا اور فروخت کرنا بھی جائز نہیں ہے، جب کہ یہ خیال صحیح نہیں ہے، جانور کے پہلے سے ملکیت میں ہوتے ہوئے اس میں قربانی کی نیت کرلینے سے اس کی قربانی لازم نہیں ہوتی ہے، اس جانور کے علاوہ دوسرے جانور کی بھی قربانی کرسکتا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (شراها لها) فلو کانت فی ملکه فنوی أن یضحی بها أو اشتراها ولم ینو الأضحیة وقت الشراء، ثم نوی بعد ذلک لا یجب، لأن النیة لم تقارن الشراء فلا تعتبر۔ (۳۸۹/۹، کتاب الأضحیة)
ما فی ” بدائع الصنائع “ : إذا اشتری شاة للأضحیة وهو موسر ثم إنها ماتت ۔۔۔۔۔ فی أیام النحر أنه یجب علیه أن یضحی بشاة أخری، لأن الوجوب فی جملة الوقت، والمشتریٰ لم یتعین للوجوب، والوقت باق۔ (۱۹۹/۴، کتاب الأضحیة)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : لو ملک إنسان شاة فنوی أن یضحی بها أو اشتری شاة ولم ینو الأضحیة وقت الشراء، ثم نوی بعد ذلک أن یضحی بها لا تجب علیه، سواء کان غنیاً أو فقیراً۔(۲۹۱/۵، کتاب الأضحیة، الباب الأول)
