مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر قربانی کرنے والے نے عید کی نماز نہیں پڑھی اور مسجد یا عید گاہ میں نماز عید ہوچکی ہے، تو اس صورت میں عید کی نماز پڑھے بغیر قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا،جب کہ نماز عید پڑھے بغیر قربانی کرنا درست ہے، بشرطیکہ مسجد یا عیدگاہ میں نماز عید ہوچکی ہو ، کیوں کہ خود قربانی کرنے والے کا عید کی نماز سے فارغ ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ مسجد یا عیدگاہ میں عید کی نماز ہوجانا کافی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الشامیة “ : ولو ضحی بعد ما صلی أهل المسجد ولم یصل أهل الجبانة أجزأه استحساناً ، لأنها صلوٰة معتبرة، حتی لو اکتفوا بها أجزأتهم۔
(۳۸۵/۹، کتاب التضحیة، تبیین الحقائق: ۴۷۷/۶ ، البحر الرائق: ۳۲۲/۸)
ما فی ” فتاوی قاضی خان علی هامش الهندیة “ : ولو خرج الإمام بطائفة إلی الجبانة وأمر رجلاً لیصلی بالضعفة فی المصر، وضحی بعد ما صلی أحد الفریقین جاز استحساناً۔
(۳۴۴/۳، فصل فی صفة الأضحیة ووقت وجوبها)
ما فی ” بدائع الصنائع “ : إذا صلی أهل أحد المسجدین أیهما کان جاز ذبح الأضاحی، وذکر فی الأصل: إذا صلی أهل المسجد فالقیاس أن لا یجوز ذبح الأضحیة، وفی الاستحسان یجوز ۔۔۔۔۔۔ ووجه الاستحسان أن الشرط صلوٰة العید، والصلوٰة فی المسجد الجامع تجزی عن صلوٰة العید بدلیل أنهم لو اقتصروا علیها جاز، ویقع الاکتفاء بذلک فقد وجد الشرط فجاز۔(۱۱۱/۴۔۲۱۲، کتاب التضحیة)
(فتاویٰ محمودیه: ۴۵۵/۱۷)
