جنابت کی حالت میں قربانی کا جانور ذبح کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بحالت جنابت قربانی کے جانور کو ذبح کرنا صحیح نہیں ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کیلئے پاک ہونا شرط نہیں ہے، بحالت جنابت ذبح کرنے سے بھی قربانی درست ہوجائے گی، البتہ پاکی حالت میں ذبح کرنا اولیٰ وبہتر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المنتقی فی شرح الملتقی “ : وتحل ذبیحة مسلم ولو امرأة حائضاً أو نفساء أو جنبیاً۔ (۱۵۴/۴، کتاب الذبائح)

ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : شروط الذابح، وهی أن یکون ممیزاً عاقلاً مسلماً أو کتابیاً ۔۔۔۔۔۔۔ قاصداً التذکیة ولو کان مکرهاً ذکراً أو أنثیٰ طاهراً أو حائضاً أو جنبیاً۔

(۲۷۶۳/۴، کتاب الذبائح)

ما فی ” النتف فی الفتاوی “ : فإن ذبح کل مسلم وکل کتابی (حلال) رجلاً کان أو أنثیٰ، حراً کان أو عبداً، جنباً کان أو طاهراً۔ (ص/۱۴۷، کتاب الذبائح والصید)

(فتاوی محمودیه: ۲۳۰/۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔