مسئلہ:
بسا اوقات اپنی مرغی کے ڈربہ میں کسی اور کی مرغی انڈا دے جاتی ہے، اور پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس کی مرغی ہے، تو اس انڈے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ لقطہ کی طرح اصل مالک کو تلاش کرکے اس کے حوالہ کیا جائے،(۱) لیکن پوری تلاش کرنے کے بعد بھی اگر اصل مالک کا پتہ نہ لگے، تو کسی غریب کو دیدے، اور خود غریب ہو تو خود بھی استعمال کرسکتا ہے،(۲) لیکن اگر مالک آئے اور مطالبہ کرے، تو اس کی قیمت اپنے پاس سے ادا کرنے کا حکم ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱)ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ویعرف الملتقط اللقطة فی الأسواق والشوارع مدة یغلب علی ظنه أن صاحبها لا یطلب بعد ذلک، هو الصحیح۔(۲۸۹/۲، کتاب اللقطة)
ما فی ” ملتقی الأبحر علی مجمع الأنهر “ : ویعرفها فی مکان أخذها، وفی المجامع: مدة یغلب علی ظنه عدم طلب صاحبها بعدها، هو الصحیح ، وعلیه الفتوی۔
(۵۲۵/۲، کتاب اللقطة)
(۲) ما فی ” البحر الرائق “ : (وینتفع بها لو فقیراً وإلا تصدق علیه أجنبی ولأبویه وزوجته وولده لو فقیراً) أی ینتفع الملتقط باللقطة بأن یتملکها بشرط کونه فقیراً نظراً من الجانبین کما جاز الدفع إلی فقیر آخر۔ (۲۶۴/۵، کتاب اللقطة)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : إن کان الملتقط محتاجاً فله أن یصرف اللقطة إلی نفسه بعد التعریف، کذا فی المحیط۔ (۲۹۱/۲، کتاب اللقطة)
ما فی ” الدر المختار “ : ینتفع الرافع بها لو فقیراً وإلا تصدق بها علی فقیر ولو علی أصله وفرعه۔ (۴۳۷/۶۔۴۳۸، کتاب اللقطة)
(۳) ما فی ” الاختیار لتعلیل المختار “ : فإن جاء وا وأمضی الصدقة فله ثوابه، وإلا له أن یضمنه أو یضمن المسکین أو یأخذها إن کانت باقیةً، أما تضمینه فلأنه سلم ماله إلی غیره بغیر أمره، وإذن الشرع فی ذلک لا یمنع الضمان کأکل مال الغیر حال المخمصة، وأما تضمین المسکین، فلأنه قبض ماله بغیر أمره، وأما أخذها فلأنه وجد عین ماله۔
(۴۰/۳، کتاب اللقطة، النهر الفائق: ۲۸۰/۲، کتاب اللقطة)
(فتاوی محمودیه: ۳۷۲/۲۳)
