مسئلہ:
اگر کسی شخص کو اپنے ملک میں اس قدر معاشی وسائل حاصل ہیں، جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر کے لوگوں کے معیار کے مطابق زندگی گذار سکتا ہے، لیکن محض معیار زندگی بلند کرنے اور خوشحالی اورعیش وعشرت کی زندگی گذارنے کی غرض سے، کسی غیر مسلم ملک کی طرف ہجرت کرتا ہے، تو ایسی ہجرت کراہت سے خالی نہیں ہے، اس لئے کہ اس صورت میں اپنے آپ کو اور اپنی دینی واخلاقی حالت کو خطرہ میں ڈالنا لازم آتا ہے، کیوں کہ جو لوگ محض عیش وعشرت اور خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کیلئے وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں، مشاہدہ یہ ہے کہ ان میں دینی حمیت کمزور پڑ جاتی ہے، اوریہ لوگ کافرانہ محرکات کے سامنے بڑی تیزی سے پگھل جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں شدید ضرورت وتقاضے کے بغیر مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿لا یتخذ المؤمنون الکافرین أولیآء من دون المؤمنین، ومن یفعل ذلک فلیس من الله فی شيء إلا أن تتقوا منهم تُقٰة﴾۔(سورة آل عمران: ۲۸)
ما فی ” روح المعانی “ : (من دون المؤمنین) أی متجاوزین المؤمنین إلی الکافرین استقلالاً أو اشتراکاً۔ (۱۹۴/۳)
ما فی ” السنن لأبي داود “ : عن سمرة بن جندب: أما بعد ! قال رسول الله ﷺ: ” من جامع المشرک وسکن معه فإنه مثله “۔
(ص/۳۸۵، کتاب الجهاد، باب في الإقامة لأرض الشرک)
ما فی ” السنن لأبي داود “ : عن جریر بن عبد الله قال: بعث رسول الله ﷺ سریة إلی خثعم، فاعتصم ناس منهم بالسجود، فأسرع فیهم القتل، قال: فبلغ ذلک النبی ﷺ فأمر لهم بنصف العقل، وقال: ” أنا برئ من کل مسلم یقیم بین أظهر المشرکین “۔ قالوا: یا رسول الله لم؟ قال: ” لا تراءی ناراهما “۔
(ص/۳۵۵، کتاب الجهاد، باب النهي عن قتل من اعتصم بالسجود، السنن للترمذی: ۲۸۹/۱، أبواب السیر، باب ما جاء في کراهیة المقام بین أظهر المشرکین)
ما فی ” عون المعبود شرح السنن لأبی داود “ : قال فی ” النهایة “: أی یلزم المسلم، ویجب علیه أن یتباعد منزله عن منزل المشرک۔ (ص:۱۱۲۹)
