مسئلہ:
طلباء کرام کا داخلہ فارم پر کرتے وقت مدرسے کے جملہ اصول وضوابط کی پاسداری کا عہد کرلینے کے بعد ، اس کا پورا کرنا ان پر واجب ہوجاتا ہے۔(۱)امتحان ہال میں طلباء عزیز کو جوابی کاپی رکھ کر لکھنے کیلئے جو پیڈ (Pad)یعنی پُٹھا دیا جاتا ہے، اس سلسلے میں جامعہ کا اصول یہ ہے کہ ان پر اپنا نام وپتہ، اسی طرح رَف (Rough) یعنی غیر مرتب وتخمینی جواب نہ لکھے جائیں، اور امتحان سے فارغ ہونے کے بعد اسے ذمہ داران امتحان کے پاس جمع کردیں، لہذا اس اصول کی پاسداری بھی ان پر لازم ہے(۲)، بلا اجازت انہیں اپنے درسگاہوں یا ہاسٹلوں (Hostel,s)میں لے جانا ، یا ان پر نام وپتہ اور رَف جواب لکھنا وغیرہ گناہ کی بات ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، امید کہ طلباء عزیز اس پر توجہ دیں گے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وأوفوا بالعهد، إن العهد کان مسوٴلا﴾۔ (سورة الإسراء: ۳۴) ﴿وأوفوا بعهد الله إذا عاهدتم﴾۔ (سورة النحل :۹۱)
ما فی ” صحیح البخاری “ : عن عبد الله بن عمرؓ، عن النبی ﷺ قال:”السمع والطاعة علی المرء المسلم فیما أحب وکره ما لم یؤمر بمعصیة،فإذا أمر بمعصیة فلا سمع ولا طاعة “۔
(۱۰۵۷/۲، کتاب الأحکام، باب السمع والطاعة)
(۲) ما فی” القرآن الکریم “: ﴿یآیها الذین آمنوا أطیعوا الله وأطیعوا الرسول وأولي الأمر منکم﴾۔(سورة النساء: ۵۹)
ما فی ” أحکام القرآن للعلامة ظفر أحمد التھانوي “ : یشتمل هذه الآیة الفقهاء والعلماء والمشائخ، بل أولی، لأنهم ورثة الأنبیاء، وخازنوا أحکام الله وأحکام رسوله۔ مسئلة: وهذا الحکم أی وجوب طاعة الأمیر مختص بما لم یخالف الشرع یدل علیه سیاق الآیة، فإن الله أمر الناس بطاعة أولی الأمر بعد ما أمرهم بالعدل فی الحکم تنبیهاً علی أن طاعتهم واجبة ما داموا علی العدل۔ (۲۹۲/۲، طاعة الأمیر فیما لا یخالف الشرع، إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة)
