اپریل فول (April Fool) منانے کا حکم شرعی

مسئلہ:

مغرب کی بے سوچے سمجھے تقلید کے شوق میں ہمارے معاشرے میں جن رسموں کو رواج دیا گیا ، ان میں سے ایک رسم ” اپریل فول “ منانے کی رسم بھی ہے، اس رسم کے تحت یکم اپریل کی تاریخ میں جھوٹ بول کر کسی کو دھوکہ دینا اور دھوکہ دے کر بیوقوف بنانا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے، بلکہ اسے ایک کما ل قرار دیا جاتا ہے، جو شخص جتنی صفائی اور چابک دستی سے دوسرے کو جتنا بڑا دھوکہ دے، اتنا ہی اسے قابل تعریف اور یکم اپریل کی تاریخ سے فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتاہے۔

یہ مذاق جسے درحقیقت بد مذاقی کہنا چاہیے، نہ جانے کتنے افراد کو بلا وجہ جانی ومالی نقصان پہنچا چکا ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں بعض اوقات لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں، کہ انہیں کسی ایسے صدمے کی جھوٹی خبر سنا دی گئی ، جسے سننے کی وہ تاب نہ لاسکے اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔

اس رسم کی ابتداء کے سلسلے میں بعض موٴرخین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے، سال کا آغاز جنوری کی بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس مہینے کو رومی اپنی دیوی وینس (Venus)کی طرف منسوب کرکے اسے مقدس سمجھا کرتے تھے ۔

بعض موٴرخین کا کہنا ہے کہ”۲۱/ مارچ“ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوتی ہیں، ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ معاذ اللہ قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بیوقوف بنارہی ہے، لہذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بیوقوف بنانا شروع کیا، بعض موٴرخین کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی بیان کردہ روایات کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے، جس میں رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تمسخر اور استہزا کا نشانہ بنایا گیا، موجودہ نام نہاد انجیلوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اسلامی نقطہٴ نظر سے یہ رسم چونکہ جھوٹ بولنا(۱)، دھوکہ دینا، دوسرے کو اذیت دینا(۲)، ایک ایسے واقعہ کی یاد منانا ، جس کی اصل یا تو بت پرستی ہے ، یا توہم پرستی، یا پھر ایک پیغمبر کے ساتھ گستاخانہ مذاق، جیسے بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے، اس لئے شرعاً یہ رسم منانا ناجائز اور منع ہے۔ امید کہ مسلمان اس سے پرہیز کریں گے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” السنن لأبی داود “: عن سفیان بن أسید الحضرمي قال: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” کبرت خیانة أن تحدث أخاک حدیثا هو لک به مصدق وأنت له به کاذب “۔(ص:۶۷۹،کتاب الأدب، باب في المعاریض)

ما فی ” صحیح البخاری “: عن أبي هریرة عن النبي ﷺ قال: ” آیة المنافق ثلاث؛ إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان “۔ (۱۰/۱)

ما فی ” السنن للترمذی “ : عن أنس عن النبي ﷺ في الکبائر قال: ” الشرک بالله، وعقوق الوالدین، وقتل النفس، وقول الزور“۔ (۲۲۹/۱)

(۲) ما فی ” الصحیح لسملم “ : عن جابر رضی الله تعالی عنه قال: سمعت النبی ﷺ یقول: ” المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده “ ۔

(۴۸/۱، کتاب الإیمان، باب بیان تفاضل الإسلام وأی أموره أفضل)

اوپر تک سکرول کریں۔