(فتویٰ نمبر: ۱۹)
سوال:
درج ذیل عبارت میں ان تمام شرعی مسائل کو بیان فرمائیں جو کہ مفتیٰ بہ قول کے مطابق ہوں ،اس طریق سے بیان فرمائیں کہ مسئلہ ۱، مسئلہ ۲، مسئلہ۳، تاکہ ہمیں آسانی کے ساتھ شرعی احکام سمجھ میں آسکیں، عبارت عربی زبان میں ہے، لیکن آپ مسائل اُردو زبان میں بیان فرمائیں، بڑی مہربانی ہوگی۔
بل یکفي منها ما یتوسل به إلی المقصود فإذا دخل الباء في المحل شبّه المحل بالوسائل ، فلا یثبت استیعاب المحل ، لکن یشکل هذا بقوله تعالی :﴿ فامسحوا بوجوهکم﴾ ویمکن أن یجاب عنه بأن الاستیعاب في التیمم لم یثبت بالنص ، بل بالأحادیث المشهورة ، وبأن مسح الوجه في التیمم قائمٌ مقام غسله ، فحکم الخلف في المقدار حکم الأصل کما في مسح الیدین ، فلو کان النص دالاً علی الاستیعاب للزم مسح الیدین إلی الإبطین في التیمم ؛ لأن الغایة لم تذکر في التیمم ، وأیضًا : الحدیث المشهور ، وهو حدیث المسح علی الناصیة دل علی أن الاستیعاب غیر مراد فانتفی قول مالک ، وأما نفي مذهب الشافعي فمبني علی أن الآیة مجملة في حق المقدار لا مطلقة کما زعم ؛ لأن المسح في اللغة إمرار الید المبتلة ، ولا شک أن مماسة الأنملة شعرةً أو ثلثاً لا تسمی مسح الرأ س ، وإمرار الید یکون له حدٌ وهو غیر معلوم فیکون مجملاً ، ولأنه إذا قیل مسحت بالحائط یراد به البعض في قوله تعالی :﴿فامسحوا بوجوهکم ﴾ الکل ، فیکون الآیة في المقدار مجملة ، ففعله رسول اللّٰه علیه السلام أنه مسح علی ناصیة یکون بیاناً له ، وأما اللحیة فعند أبي حنیفة مسح ربعها فرض ؛ لأنه لما سقط غسل ما تحتها من البشرة صار کالرأس ، وعند أبي یوسف مسح کلها فرض ۔ (باب الوضوء)
الجواب وباللہ التوفیق:
عبارتِ مذکورہ میں دومسئلوں کا ذکر ہے: مسحِ رأس اور مسحِ لحیہ، جہاں تک مسحِ راس کا تعلق ہے تما م ائمہ کے نزدیک فرض ہے، البتہ مقدارِ مفروض میں اختلاف ہے، حضراتِ علمائے احناف کے نزدیک مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے، حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مطلق سرکا مسح فرض ہے ، ایک بال یا تین بالوں کا مسح بھی کرلیا تو کافی ہے ، حضرت امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ کے نزدیک پورے سرکا مسح فرض ہے، تمام ائمہٴ کرام کے دلائل مذکورہ بالا عبارت میں موجود ہیں۔
دوسرا مسئلہ، مسئلہ لحیہ ہے ، لحیہ کی دو قسمیں ہیں :
۱/… لحیہٴ کثہ: یعنی اس قد ر گھنی داڑھی کہ اس کے نیچے کی جلد دکھائی نہ دیتی ہو، مفتی بہ قول کے مطابق اس کے پورے ظاہر کا دھونا فرض ہے۔(۱)
۲ /… لحیہٴ خفیفہ: یعنی اس قدر ہلکی داڑھی کہ اس کے نیچے کی جلد دکھائی دیتی ہو ، مفتیٰ بہ قول کے مطابق اس جلد تک پانی پہنچانا فرض ہے۔ (۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱/۲)ما في ” نور الإیضاح “ : یجب غسل ظاهر اللحیة الکثة في ما یفتی به ، ویجب إیصال الماء إلی بشرة اللحیة الخفیفة ۔ (ص/۳۳)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وغسل جمیع اللحیة فرض) یعني عملیًا (أیضًا) علی المذهب الصحیح المفتی به المرجوع إلیه ، وما عدا هذه الروایة مرجوع عنه کما في البدائع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وأن الخفیفة التي تری بشرتها یجب غسل ما تحتها ۔ (۱/ ۱۹۳ ، ۱۹۴ ، کتاب الطهارة ، ط : دیوبند)(بدائع الصنائع : ۹۷/۱)
ما في ” النهر الفائق “ : والصحیح وجوب الغسل ، قال في الظهیریة : وعلیه الفتویٰ ۔ (۱/ ۳۴)
ما في ” حاشیة الفقه الإسلامي وأدلته “ : وأما اللحیة الخفیفة والکثیفة في حد الوجه من لحیة غیر الرجل وعارضیه ، فیجب إیصال الماء إلی ظاهره وباطنه ومنابته بتخلیل أو غیره ۔ (۱/ ۲۴۶)
ما في ” إعلاء السنن “ :کذا قال العلامة المحدث السید مرتضی الزبیدي الحنفي نور اللّٰه مرقده في ” شرح الإحیاء “ ثم قال بعد أسطر : ویوافقه سیاق ما في کتب أصحابنا ، حیث قالوا : یجب غسل ظاهر اللحیة الکثة في أصح ما یفتی به ؛ لأنها قامت مقام البشرة فتحول الفرض إلیها ، وما قیل غیر ذلک من الاکتفاء بثلثها أو ربعها أو مسح کلها أو غیره ، متروک ۔ (۱/ ۳۸) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۲۰/۱/۱۴۲۹ھ
