مسئلہ:
بعض لوگ دعوت کے موقع پر یوں کہہ کر کھانا شروع کردیتے ہیں کہ جس کے سامنے کھانا آچکا ہے اس کو شروع کردینا چاہیے، پوری جماعت کے سامنے کھانا آجانے کا انتظار کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ اس میں کھانے کا احترام فوت ہوجاتا ہے، جب کہ یہ حکم اس وقت ہے جب آدمی اپنے گھر میں کھارہا ہو، لیکن اگر کسی دعوت میں ہو تو وہاں انتظار کرنا چاہیے ، یا پھر دعوت دینے والے کی اجازت ہو تو شروع کردے، کیوں کہ ایسا نہ کرنے میں انتظام میں خلل واقع ہوتا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” مشکاة المصابیح “ : عن عبد الله بن بُسر قال: کان للنبی ﷺ قصعة یحملها أربعة رجال، یقال لها: الغراء، فلما أضحوا وسجدوا الضحی أتي بتلک القصعة، وقد ثرد فیها، فالتفوا علیها، فلما کثروا جثا رسول الله ﷺ، فقال أعرابي: ما هذه الجلسة؟ فقال النبی ﷺ: ” إن الله جعلني عبداً کریماً، ولم یجعلنی جباراً عنیداً“۔ ثم قال: ” کلوا من جوانبها ودعوا ذروتها یبارک فیها “۔ رواه أبوداود (ص:۳۶۹، کتاب الأطعمة، باب الضیافة، الفصل الثاني)
ما فی ” الفتاوی اللکنوی “ : الاستفسار: إذ حضر الخبز فهل ینتظر الادام أم یشرع فیه؟ الاستبشار: ینبغی أن لا ینتظر الادام، ویأخذ فی الأکل قبل أن یوٴتی الادام، وهذا فی بیته، وأما فی الضیافة فینتظر، کذا فی نصاب الاحتساب۔(ص:۳۷۶)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : قال الفقیه أبو اللیث: یجب علی الضیف أربعة أشیاء؛ أولها: أن یجلس حیث یجلس، والثانی: أن یرضی بما قدم إلیه، والثالث: أن لا یقوم إلا بإذن رب البیت، والرابع: أن یدعو له إذا خرج۔(۳۴۴/۵، کتاب الکراهیة، الباب الثانی عشر فی الهدیة والضیافات)
