مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آبِ زمزم کھڑے ہوکر پینا ضروری ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ زمزم کے پانی کو بیٹھ کر پینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیوں کہ حجة الوداع کے موقع پر آپ ﷺ سے جو کھڑے ہوکر زمزم پینا ثابت ہے، محققین کی تحقیق یہ ہے کہ یہ ایک طبعی فعل تھا، اس کا اہتمام کرنا سنت نہیں ہے، لہذا کھڑے ہوکر زمزم پینے کو بیانِ جواز پر محمول کیا گیا ہے، تاہم اکثر علماء کا نقطہٴ نظریہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چونکہ کھڑے ہوکر زمزم پیا ہے ، لہذا کھڑے ہوکر پینے میں بہر حال اتباعِ نبوی کی رعایت ہے، اور امورِ طبعیہ میں بھی آپ ﷺ کی اتباع اجر وثواب سے خالی اور مستحب سے کم تر نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : أن یشرب من فضل الوضوء قائماً مستقبل القبلة أو قاعداً، لأنه یشرب قائماً من فضل الوضوء وماء زمزم ۔ مراقي ۔ قال الطحطاوی تحت قوله: (أو قاعداً) أو للتخییر۔ (ص:۷۷)
ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : ونص بعض المحدثین والفقهاء علی أنه یسن الجلوس عند شرب ماء زمزم کغیره۔ (۱۵/۲۴)
ما فی ” فتح الباری “ : ثبت عن علی رضی الله تعالی عنه عند البخاری، أنه شرب قائماً، فیحمل علی بیان الجواز۔ (۶۳۳/۳، کتاب الحج، ما جاء فی زمزم)
ما فی ” عمدة القاری “ : وأما شربه قائماً فلبیان الجواز۔(۴۰۰/۹، کتاب الحج، باب ما جاء في زم زم)
ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : قالوا : إن ما روی الشعبي عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه قال: ” سقیت رسول الله ﷺ من زمزم وهو قائم “۔ محمول علی أنه لبیان الجواز، ومعارض لما رواه ابن ماجة عن عاصم قال: ذکرت ذلک لعکرمة ففحلف بالله ما فعل، أی ما شرب قائماً، لأنه کان حینئذٍ راکبا ۔ (۱۵/۲۴، زمزم)
(کتاب الفتاوی:۸۱/۴، قاموس الفقه:۱۰۱/۴)
