ہومیوپیتھک دواوٴں سے علاج

مسئلہ:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہومیو پیتھک دواوٴں میں الکحل ملا ہوتا ہے، اس لئے انہیں استعمال کرنا درست نہیں ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ آج کل دواوٴں میں جو الکحل ملائی جاتی ہے، وہ عموماً انگور اور کھجور کے علاوہ دیگر اشیاء، مثلاً گندم، جو، گندھک، چنبیلی اور دیگر پھولوں اورسبزیوں سے کشید ہوتی ہے، اور ایسی الکحل کا استعمال مختلف فیہ ہے، اس لئے اس قسم کی دوائیں ، چاہے وہ ہومیو پیتھک کی ہوں یا ایلو پیتھک کی، ان کا استعمال مطلقاً ناجائز وحرام نہیں، بلکہ ان کے استعمال کی گنجائش ہے، اگر چہ ایسی دواوٴں کے استعمال سے بچنا بہتر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” تکملة فتح الملهم “ : وبهذا تبین حکم الکحول المسکرة التی عملت بها البلوی الیوم، فإنها تستعمل فی کثیر من الأدویة والعطور المرکبات الأخری، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتها وطهارتها، ولا یحرم استعمالها للتداوی أو لأغراض مباحة أخری ما لم تبلغ حد الإسکار، لأنها تستعمل مرکبة المواد الأخری، ولا یحکم بنجاستها أخذاً بقول أبی حنیفة۔ (۶۰۸/۳)

(فتاوی بنوریه، رقم الفتوی: ۳۸۴۹۴)

اوپر تک سکرول کریں۔