آئی لینس (Eye Lens)کا استعمال

مسئلہ:

آج کل آنکھوں کی زینت کیلئے آئی لینس (Eye Lens) لگوائے جاتے ہیں، جو مختلف کلر کے ہوتے ہیں، اگر ان کے لگانے میں طبی اعتبار سے کوئی ضرر لاحق نہ ہو تا ہو، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر غیروں کی تقلید میں اور کسی دوسرے کو دھوکہ دینے کی غرض سے مذکو ر عمل اختیار کرنا ، قطعاً درست نہیں ہے، اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “: الأصل فی الأشیاء الإباحة حتی یدل الدلیل علی عدم الإباحة۔ (۲۵۲/۱)

ما فی ” السنن لأبی داود “ : ” من تشبه بقوم فهو منهم “۔ (ص:۵۵۹)

ما فی ” مرقاة المفاتیح “ : أی من شبه نفسه بالکفار مثلاً فی اللباس وغیره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار فهو منهم، أی فی الإثم والخیر ، قال الطیبی: هذا عام فی الخلق والخلق والشعار۔ (۲۲۲/۸، رقم الحدیث: ۴۳۴۷)

ما فی ” السنن للترمذی “ : عن أبی بکر الصدیق قال: قال رسول الله ﷺ: ” ملعون من ضارّ موٴمنا أو مَکَرَ بِه “۔(۱۵/۲، أبواب البر والصلة، ما جاء فی الخیانة والغش)

(فتاوی بنوریه، رقم الفتوی: ۲۶۶۰۲)

اوپر تک سکرول کریں۔