(فتویٰ نمبر:۶۱)
سوال:
چار رکعت والی نمازوں میں امام صاحب قعدہٴ اُولیٰ میں کتنی دیر توقف کرسکتے ہیں؟ ہمارے یہاں قاری جلال الدین صاحب جو کہ ہمارے شہر احمد نگر کی بادشاہ مسجد میں ۲۷/ سال امامت کرچکے ہیں اور تبلیغی جماعت کے امیر بھی رہے ہیں ، کہتے ہیں کہ مقتدی امام کے تابع ہوتا ہے، چاہے امام کتنی بھی دیر قعدہٴ اُولیٰ کرے اس کی اتباع ضروری ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟ جب کہ چاررکعت والی نماز میں التحیات (تشہد) پڑھنے تک بیٹھنا چاہیے، زیادہ بیٹھنا یا درود شریف پڑھنا سجدہٴ سہو کو واجب کرتا ہے، اگر سجدہٴ سہو نہیں کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی، کیوں کہ رکن میں تاخیر ہوجاتی ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
مقتدی امام کے تابع ہوتا ہے، یہ صحیح ہے، لیکن امام کا قعدہٴ اُولیٰ میں تشہد سے فارغ ہونے کے بعد، تین مرتبہ تسبیح پڑھنے کی مقدار بیٹھنا، اس پر سجدہٴ سہو کوواجب کرتا ہے اور سجدہٴ سہو نہ کرنے کی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وتأخیر قیام إلی الثالثة بزیادة علی التشهد بقدر رکن) وقیل بحرف ، وفي الزیلعي : الأصح وجوبه باللّٰهم صل علی محمد ۔ (۲/ ۵۴۴)
ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : (وجب علیه سجود السهو) إذا شغله التفکر عن أداء واجب بقدر رکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولم یبینوا قدر الرکن ، وعلی قیاس ما تقدم أن یعتبر الرکن مع سنته ، وهو مقدار بثلاث تسبیحات ۔ (ص/۲۵۸)
(أحسن الفتاویٰ:۴/ ۴۷، فتاویٰ رحیمیه:۱۸۹/۵) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۹/۴/۱۴۲۹ھ
نوٹ-: بعد از تحیات عرض یہ ہے کہ آئندہ جب بھی استفتا ارسال کریں، کسی لکھے پڑ ھے انسان سے صاف تحریر میں اپنا مدعا ومقصود واضح انداز میں لکھوالیں، کیوں کہ شکستہ تحریر کو پڑھنے میں بڑی دقتوں کا سامنا ہوتا ہے اور بسااوقات سوال پوچھنے والے کی غرض واضح نہ ہونے کی وجہ سے جواب دینا مشکل ہوتا ہے، امید کہ آپ ان باتوں کا ضرور خیال رکھیں گے۔والسلام!
