بچوں کا رخ یا پشت قبلہ کی جانب کراکے پیشاب پاخانہ کروانا

مسئلہ:

بعض عورتیں اپنے بچوں کا رُخ یا پشت قبلہ کی جانب کراکے پیشاب پاخانہ کرواتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ یہ تو ابھی بچہ ہے، ان کا یہ عمل صحیح نہیں ہے، کیوں کہ خانہٴ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اور تجلیاتِ خداوندی کا مرکز ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی طرف پاوٴں پھیلانے اور تھوکنے(۱)،نیز اس کی طرف رُخ یا پشت کرکے قضاءِ حاجت سے روکا گیا ہے(۲)، اسی لیے حضراتِ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ عورتوں کے لیے بچوں کو پیشاب پاخانہ کراتے وقت اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ بچوں کا رُخ یا پشت قبلہ کی جانب نہ ہو۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” السنن لأبي داود “ : عن حذیفة أظنّه عن رسول الله ﷺ قال: ” مَن تَفِلَ تِجاه القبلة جاء یوم القیامة تفله بین عینیه “۔

(ص:۵۳۵، کتاب الأطعمة، رقم الحدیث: ۳۸۲۴)

(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي أیوب الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ: إذا أتی أحدکم الغائط فلا یستقبل القبلة ولا یولّها ، شرّقوا أو غرّبوا “۔

(۲۶/۱، کتاب الوضوء، باب لا تستقبل القبلة بغائط أو بول)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکذا یکره للمرأة إمساک صغیر لبول أو غائط نحو القبلة، وکذا مدّ رجله إلیها ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: قوله: (إمساک صغیر) هذه الکراهة تحریمیة، لأنه قد وجد الفعل من المرأة۔ (۵۵۵/۱، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، مطلب القول مرجّح علی الفعل)

اوپر تک سکرول کریں۔