بے شعور بچہ اگر پانی کے برتن میں ہاتھ ڈال دے

مسئلہ:

بچہ کے اندر بے شعوری ہوتی ہے، اس کے ہاتھوں میں لگی نجاست کا احساس اُسے بھی نہیں ہوتا، لہٰذا اگر کسی بچہ نے اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال دیا، تو حضراتِ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اگر بچہ کے ہاتھ میں نجاست کا لگا ہونا یقینی ہو، تو پانی ناپاک ہوجائے گا، اور اگر ہاتھ کے پاک ہونے کا یقین ہو ، تو پھر اس پانی سے پاکی حاصل کرنا جائز ہوگا، اور اگر معاملہ درمیان کا ہو ، یعنی نہ ہی ہاتھ کے پاک ہونے کا علم ہو اور نہ ہی ناپاک ہونے کا یقین، تو ایسی صورت میں مناسب ہے کہ اس پانی سے پاکی حاصل نہ کرے، کیوں کہ بچے عادةً نجاستوں سے بچتے نہیں ہیں، لیکن اگر کسی نے اُسی مشکوک پانی سے وضو یا غسل کرلیا ، تو پاکی حاصل ہوجائے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا أدخل الصبي یده في کوز ماء أو رجله، فإن علم أن یده طاهرة بیقین یجوز التوضؤ به، وإن کان لا یعلم أنها طاهرة أو نجسة فالمستحب أن یتوضأ بغیره، ومع هذا لو توضأ أجزاه ۔ کذا في المحیط ۔

(۲۵/۱، کتاب الطهارة، الفتاوی التاتارخانیة:۱۱۶/۱۔۱۱۷، کتاب الطهارة، نوع آخر في الحباب والأواني، المحیط البرهاني:۱۲۱/۱، کتاب الطهارة، نوع آخر في الحباب والأواني)

اوپر تک سکرول کریں۔