کھڑے ہوکر وضو کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ کھڑے ہوکر وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں ، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ کھڑے ہوکر وضو کرنا مکروہ نہیں ، بلکہ خلافِ ادب ہے، کیوں کہ فقہاء کرام نے بلند جگہ پر بیٹھ کر وضو کرنے کو آدابِ وضو میں شمار کیا ہے(۱)، اور ادب کی مخالفت سے کراہت لازم نہیں آتی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي “ : آداب الوضوء: الجلوس في مکان مرتفع تحرزًا عن الغسالة۔

(ص:۳۱، کتاب الطهارة، فصل من آداب الوضوء، حلبي کبیر: ص:۳۱، کتاب الطهارة، مطلب في آداب الوضوء)

(۲) ما في ” رد المحتار “ : قال الشامي: لا یلزم من ترک المستحب ثبوت الکراهة، إذ لا بدّ لها من دلیل خاص۔

(۲۴۷/۱، کتاب الطهارة، مطلب ترک المندوب هل یکره تنزیها)

(فتاویٰ محمودیه :۴۱۵/۳۰)

اوپر تک سکرول کریں۔