بچہ کی دودھ کی قے کا حکم شرعی

مسئلہ:

بعض اوقات بچہ دودھ پینے کے بعد فوراً دودھ کی قے کردیتا ہے، یہ قے کبھی دودھ کے حلق سے نیچے اتر جانے کے بعد ہوتی ہے، اور کبھی حلق سے نیچے اترنے سے پہلے ، اگر دودھ حلق سے نیچے اترجائے، پھر قے ہو تو یہ قے ناپاک ہوگی، کیوں کہ پیٹ کی نجاستیں اس سے مل گئی ہیں، اور اگر دودھ حلق کے نیچے نہیں گیا، بلکہ منہ میں ہی تھا، اور بچہ نے اس کی قے کردیا، تو اس قے کو ناپاک نہیں سمجھا جائے گا، اگر کپڑے پر لگ جائے تو دھونا بھی ضروری نہیں، ہاں! اگر بطورِ نظافت دھولے تو بہتر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حلبي کبیر“ : وکذا الصبي إذا ارتضع وقاء من ساعته قیل وهو المختار والصحیح ظاهر الروایة أنه نجس لمخالطة النجاسة وتداخلها فیه بخلاف البلغم وبخلاف ما ذکر في القنیة أنه لو قاء دودًا کثیرًا أو حیة ملأت فاه لاینقص، وذلک لأنه ظاهر في نفسه ولم تتداخله النجاسة وما یستتبعه قلیل لا یبلغ ملأ الفم۔

(ص:۱۲۹، کتاب ا لطهارة، فصل في نواقض الوضوء، الدر المختار مع الشامیة:۲۶۶/۱، کتاب الطهارة، مطلب نواقض الوضوء)

ما في ” البحر الرائق “ : قال الحسن : إذا تناول طعاماً أو ماء ثم قاء من ساعته لا ینقض لأنه طاهر حیث لم یستحل وإنما اتصل به قلیل القيء فلا یکون حدثاً فلا یکون نجساً، وکذا الصبي إذا ارتضع وقاء من ساعته وصحیحه في المعراج وغیره، ومحل الاختلاف ما إذا وصل إلی معدته ولم یستقر، أما لو قاء قبل الوصول إلیها وهو في المرئی فإنه لا ینقض اتفاقاً کما ذکره الزاهدي، وفي فتح القدیر: لو قاء دودًا کثیرًا أو حیة ملأت فاه لاینقض لأن ما یتصل به قلیل وهو غیر ناقض۔ (۶۷/۱، کتاب الطهارة)

(بچے حقوق واحکام :ص:۱۰۱۔ ۱۰۲)

اوپر تک سکرول کریں۔