مسئلہ:
بعض لوگ فرض نماز میں دوسورتوں کے درمیان کسی سورت کو چھوڑ کر تیسری سورت کے پڑھنے کو مطلقاً مکروہ خیال کرتے ہیں، ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ صحیح بات یہ ہے کہ دو سورتوں کے درمیان کسی ایسی سورت سے فصل کرنا ، جس کی وجہ سے دوسری رکعت پہلی رکعت کے مقابلے میں طویل ہوجاتی ہو، مکروہ نہیں ہے، اسی طرح قصداً کسی چھوٹی سورت کے ذریعہ فصل کرنا محض مکروہِ تنزیہی ہے، اور اگر یہ سہواً ہوتو مکروہ بھی نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار“ : قوله: (ویکره الفصل بسورة قصیرة) أما بسورة طویلة بحیث یلزم منه إطالة الرکعة الثانیة إطالة کثیرة فلا یکره۔ شرح المنیة ۔ کما إذا کانت سورتان قصیرتان، وهذا لو في رکعتین۔ (۲۶۹/۲، فصل في القراءة، بیروت)
ما في ” حاشیة الطحطاوي “ : ویکره فصله بسورة بین سورتین قرأهما في رکعتین لما فیه من شبهة التفضیل والهجر، وقال بعضهم: لا یکره إذا کانت السورة طویلة، کما لو کان بینهما سورتان قصیرتان اه۔ (ص:۳۵۲، فصل في مکروهات الصلاة، مکتبة شیخ الهند دیوبند، الفتاوی الهندیة:۷۸/۱، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الرابع في القراءة)
(حاشیه فتاویٰ محمودیه:۱۰۳/۷)
