لاوٴڈ اسپیکر پر نمازبا جماعت

مسئلہ:

اعلیٰ بات یہ ہے کہ نماز باجماعت سادہ طریقے پر سنت کے مطابق (بغیر لاوٴڈ اسپیکر کے) ادا کی جائے، مجمع زیادہ ہو اورتکبیراتِ انتقالاتِ امام کی آواز سب تک نہ پہنچ سکے، تو مکبروں کا انتظام کیا جائے، ان کے لیے جگہ اور صف متعین کردی جائے، تاکہ تمام مصلیوں تک آواز پہنچ سکے، قرأتِ امام کی آواز سب تک پہنچنا ضروری نہیں ہے۔

نیز لاوٴڈ اسپیکر کے خراب وغیرہ ہوجانے کی صورت میں بعض مفاسد بھی سامنے آتے ہیں، لیکن اگر مجمع کی کثرت کی وجہ سے لاوٴڈ اسپیکر کے بغیر زیادہ انتشار ہونے کا اندیشہ ہو، تو وہاں لاوٴڈ اسپیکر کا استعمال یقینا مناسب اور بہتر ہوگا، اور نماز کے بلاشبہ درست ہوجانے میں کوئی شبہ نہیں ، کیوں کہ مائک سے جو آواز نکلتی ہے وہ متکلم کی آواز ہے، مائک اُسے محض بلند کرتا ہے، اکثر ماہرینِ فن کا اس پر اتفاق ہے ، مگر اس صورت میں یہ باتیں ملحوظ رہنی چاہیے کہ لاوٴڈ اسپیکر اعلیٰ قسم کا ہو کہ امام کو اس کی طرف منہ کرنے کی ضرورت نہ ہو، کہ توجہ الیٰ غیر اللہ مقصودِ صلوة کے منافی ہے، مکبرین کا مکمل انتظام ہو، تاکہ لاوٴڈ اسپیکر فیل ہوجائے تو نماز میں گڑبڑ نہ ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

 (فتاویٰ محمودیہ : ۱۶۸/۱۱ ، فتاویٰ عثمانی : ۵۵۸/۱ ، امداد الفتاویٰ : ۶۷۰/۱ ، جواہر الفقہ : ۹۹/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔