مسئلہ:
آج کل آبادیاں بڑھ گئیں جس کی وجہ سے ایک ہی گاوٴں اور شہر میں متعدد مسجدیں بن گئیں، اور متعدد مسجدوں میں نمازِ جمعہ بھی پڑھی جانے لگی، ہر مسجد میں اذان وجماعت کا ایک وقت مقرر ہے، جس کی بنا پر کسی مسجد میں اذان پہلے اور کسی مسجد میں بعد میں ہوتی ہے، جمعہ کے دن اذانِ جمعہ کے بعد سعی واجب اور خرید وفروخت مکروہ ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم اپنے محلہ کی اذان کے بعد ہوگا، یا شہر میں کسی بھی مسجد میں پہلے دی جانے والی اذان کے بعد؟
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کی روایتِ صریحہ احقر نے نہیں دیکھی، لیکن فقہاء کرام یہ فرماتے ہیں کہ جب متعدد اذانیں سنی جائیں ، تو ان میں سے پہلی اذان کا جواب دے، خواہ وہ اذان مسجدِ محلہ کی ہو یا غیر محلہ کی، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعی کا وجوب اور بیع کی کراہت بھی شہر کی اذانِ اول پر ہو، خواہ یہ اذان مسجد محلہ میں ہو یا غیر محلہ میں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو تکرر أجاب الأول ۔ الدر المختار۔ قال الشامي: قوله: (أجاب الأول) سواء کان مؤذن مسجده أو غیره۔
(۶۶/۲، باب الأذان، مطلب في کراهة تکرار الجماعة في المسجد)
ما في ” حاشیة الطحطاوي “ : قوله: (وإذا تعدد الأذان یجیب الأول) مطلقاً، سواء کان مؤذن مسجده أم لا، لأنه حیث سمع الأذان ندبت له الإجابة۔
(ص:۳۰۲، باب الأذان)
ما في ” البحر الرائق “ : وسئل ظهیر الدین عمن سمع في وقت من جهات ماذا علیه؟ قال: إجابة أذان مسجده بالفعل، وفي فتح القدیر: وهذا لیس مما نحن فیه، إذ مقصود السائل أي موٴذن یجیب باللسان استحباباً أو وجوباً، والذي ینبغي إجابة الأول، سواء کان مؤذن مسجده أو غیره۔ (۴۵۲/۱، باب الأذان)
