بچوں پر مرتے وقت تلقین کا حکم شرعی

مسئلہ:

شریعتِ اسلامیہ میں قریب المرگ شخص پر تلقین کاحکم دیا گیا ہے(۱)، بچوں پر مرتے وقت تلقین کے سلسلے میں حضراتِ فقہاء نے لکھا ہے کہ ان پر تلقین کی حاجت نہیں ہے، کیوں کہ جن لوگوں سے قبر میں سوال نہیں کیا جائیگا، ان کے لیے تلقین کی ضرورت نہیں ہے، اور صحیح قول کے مطابق بچوں سے قبر میں سوال نہیں کیا جائے گا۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي سعید الخدري یقول: قال رسول الله ﷺ: ” لقِّنوا موتاکم لا إله إلا الله “۔ (۳۰۰/۱، کتاب الجنائز، باب تلقین الموتی، قدیمي)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ومن لا یسأل ینبغي أن لا یلقن، والأصح أن الأنبیاء لا یسألون ولا أطفال المؤمنین ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: قوله: (ومن لا یسأل) أشار إلی أن سؤال القبر لا یکون لکل أحد ۔۔۔۔ ونقل عن الحافظ ابن الحجر العسقلاني أن الذي یظهر اختصاص السؤال بالمکلف، وقال: وتبعه شیخنا یعني الحافظ السیوطي۔ (۸۱/۳۔۸۲ ، باب صلاة الجنائز)

ما في ” فتاوی شرعیة معاصرة للحفناوي “: وهذا التلقین في حق المکلف المیت، أما الصبي فلا یلقن، وعلی هذا فلا أدعی للخلاف، فالدعاء للمیت والاستغفار له بعد الموت أمرٌ مشروعٌ۔ (ص:۲۲۳)

ما في ” فتاوی الإمام النووي “ : وهذ التلقین إنما هو في حق المیت المکلف، وأما الصبي فلا یلقن ۔ (ص:۱۴۰)

اوپر تک سکرول کریں۔