نمازِ جنازہ میں بچے کے لیے استغفار

مسئلہ:

بچہ کے نمازِ جنازہ میں بچہ کے لیے استغفار نہیں ہے، کیوں کہ گناہوں سے استغفار اور گناہوں کی معافی کی درخواست تو ان لوگوں کے حق میں ہے ، جن کے اعمال، ثواب وگناہ سے مخلوط ہوں، حالانکہ بچہ احکامِ اسلام کا مخاطب ہی نہیں ، بلکہ وہ معصوم ہوتا ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے خود نمازِ جنازہ میں بچہ کی مغفرت کے لیے دعا کاحکم نہیں فرمایا، اور بچہ کے والدین کے لیے اس بچہ کو مغفرت ورحمت کا ذریعہ بنانے کی دعا کی تلقین فرمائی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” نیل الأوطار للشوکاني “ : إذا کان المصلّٰی علیه طفلا استحب أن یقول المصلِّي: ” اللهم اجعله لنا سلفًا وفرطاً وأجرًا “۔ روی ذلک البیهقي من حدیث أبي هریرة۔

(۷۰/۴، کتاب الجنائز، أبواب الصلاة علی المیت، باب الدعاء للمیت، رقم الحدیث: ۱۴۲۷)

ما في ” السنن لأبي داود “ : عن المغیرة بن شعبة قال: قال النبي ﷺ: ” والسقط یُصلّٰی علیه، ویُدعٰی لوالدیه بالمغفرة والرحمة “۔

(ص:۴۵۳، کتاب الجنائز، باب المشي أمام الجنازة، رقم الحدیث:۳۱۸۰)

ما في ” الهدایة “ : ولا یستغفر للصبي ولکن یقول: ” اللهم اجعله لنا فرطاً واجعله لنا أجرًا وذخرًا، واجعله لنا شافعًا ومشفعًا “۔

(۱۸۰/۱، کتاب الصلاة ، باب الجنائز، الصلاة علی المیت)

ما في ” فتح القدیر لإبن الهمام الحنفي “ : لا یستغفر للصبي لأنه لا ذنب له۔(۱۲۹/۲، کتاب الصلاة، فصل في الصلاة علی المیت)

اوپر تک سکرول کریں۔