مسئلہ:
بعض دفعہ کسی شخص کا ایسے مقام پر انتقال ہوجاتا ہے ، جہاں اس کے ورثاء نہیں ہوتے، اور ان کے پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے، یا بعض دفعہ کوئی قانونی پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے، یا بعض دفعہ شناخت مشکل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے تدفین میں تاخیر ہوتی ہے، ایسے موقع پر میت میں تعفّن پیدا نہ ہو،اس لیے اُسے سرد خانہ (Cold House) میں رکھتے ہیں، شرعاً اس کی گنجائش ہے(۱)،لیکن محض اس غرض سے سرد خانہ میں رکھنا کہ اس پرجمعِ عظیم نمازِ جنازہ پڑھ سکے،مکروہ ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” قواعد الفقه “ : الضرورات تبیح المحظورات۔ (ص:۸۹)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : یندب دفنه في جهة موته وتعجیله اه ۔ الدر المختار ۔ قال ابن عابدین الشامي: قوله: (وتعجیله) أي تعجیل جهازه عقب تحقق موته، ولذا کره تأخیر صلاته ودفنه لیصلي علیه جمع عظیم بعد صلاة الجمعة۔(۱۴۶/۳، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن المیت، بیروت)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۱۱۹۶)
