مسئلہ:
بعض لوگ نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد، میت کے دیدار سے منع کرتے ہیں کہ نماز کے بعد عالمِ برزخ کے احوال شروع ہوجاتے ہیں، حالانکہ موت کے بعد ہی انسان عالمِ برزخ میں پہنچ جاتا ہے، اور موت کے بعد نمازِ جنازہ سے پہلے کسی نے بھی دیدار کو منع نہیں کیا، کیوں کہ یہ حضراتِ صحابہ کے عمل سے ثابت ہے(۱)، اس لیے موت کے بعد احوالِ برزخ کا آغاز، دیدار کے ممنوع ہونے کی وجہ نہیں بن سکتا۔
بعض علماء ، نمازِ جنازہ کے بعد دیدار کو اس لیے مکروہ قرار دیتے ہیں کہ یہ ایک ایسی رسم ہے جس کی شرعاً کوئی اصل نہیں ، اوراس کی وجہ سے عملِ تدفین میں تاخیر ہوتی ہے، جب کہ اس میں تعجیل کا حکم دیا گیا ہے(۲)،لیکن اگر کسی مصلحت کی بنا پر ، کسی شخص کی نمازِ جنازہ پہلے پڑھ لی جائے اور پھر اس کے گھر والوں کو اس کا دیدار کرایا جائے، اور اس عمل میں زیادہ تاخیر بھی نہ ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے(۳)،البتہ اتنی بات یاد رہے کہ موت کے بعدانسان کو دیکھنے کے وہیں آداب ہیں جو زندہ کو دیکھنے کے ہیں، کہ مرد، مرد کا چہرہ، عورت، عورت کا چہرہ، بیوی، شوہر کا چہرہ، اور مرد، محرم عورت کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں، غیر محرم عورت کو جیسے زندگی میں دیکھنا جائز نہیں ہے، موت کے بعد بھی دیکھنا جائز نہیں ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن الزهري قال: أخبرني أبو سلمة أن عائشة زوج النبي ﷺ أخبرته قالت: ” أقبل أبو بکر علی فرسه من مسکنه بالسّنح حتی نزل فدخل المسجد فلم یکلم الناس حتی دخل علی عائشة فتیمم النبي ﷺ وهو مسجّی ببرد حبرة فکشف عن وجهه ثم أکبّ علیه فقبّله ثم بکی، فقال: بأبي أنت یا نبي الله !لا یجمع الله علیک موتتین، أما الموتة التي کتب الله علیک فقد مُتّها “۔(۱۶۶/۱، کتاب الجنائز، باب الدخول علی المیت بعد الموت إذا أدرج في أکفائه)
(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة عن النبي ﷺ قال: ” أسرعوا بالجنازة، فإن تک صالحة فخیر تقدمونها، وإن تک سوی ذلک فشرّ تضعونه عن رقابکم “۔
(۱۷۶/۱، کتاب الجنائز، باب السرعة بالجنازة)
ما في ” السنن لأبي داود “ : عن الحصن بن وحوج أن طلحة بن البراء مرض فأتاه النبي ﷺیعوده فقال: ” إني لا أری طلحة إلا قد حدث فیه الموت فاذنوني به وعجلوا، فإنه لا ینبغي لجیفة مسلم أن تحبس بین ظهراني أهله “۔ (ص:۴۵۰، کتاب الجنائز، باب تعجیل الجنازة)
(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا بأس بأن یرفع ستر المیت لیری وجهه، وإنما یکره ذلک بعد الدفن ۔ کذا في القنیة۔
(۳۵۱/۵، کتاب الکراهیة، الباب السادس عشر في زیارة القبور وقراءة القرآن في المقابر)
(فتاویٰ رحیمیه:۱۲۷/۷، فتاویٰ حقانیه:۴۶۸/۳، کتاب الفتاویٰ:۱۴۴/۳)
(۴) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : اتفق الفقهاء علی أنه یحرم نظر الرجل إلی عورة المرأة الأجنبیة۔
(۳۴۶/۴۰، نظر، تبیین الحقائق: ۱۷/۶- ۱۸، دار الکتاب الإسلامي ، حاشیة الدسوقي علی الشرح الکبیر:۲۱۴/۱، دار الفکر بیروت، روضة الطالبین للنووي: ۲۱/۷، المکتب الإسلامي، الإنصاف للمرداوي: ۳۰/۸، ط: احیاء التراث)
