مسئلہ:
بعض کمپنیاں اپنے ملازمین کو اُن کے ملازمت سے سُبکدوش ہونے (Retirement) پر گریجویٹی فنڈدیتی ہیں، گریجویٹی فنڈ کے نام سے ملازمین کو دی جانے والی یہ رقم، ملازمین کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے کم وبیش ہوتی ہے، اور یہ رقم بطورِ تبرُّع وقدر شناسی دی جاتی ہے، لہٰذا جب تک وہ رقم وصول نہ ہو اور نصاب کے بقدر نہ ہو، ا س میں زکوة واجب نہیں ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وسببه أي سبب افتراضها ملک نصاب حولي تام فارغ عن دین له مطالب من جهة العباد ۔
(۱۷۴/۳۔ ۱۷۶، مطلب الفرق بین السبب والشرط والعلة)
ما في ” البحر الرائق “ : وشرط وجوبها؛ العقل، والبلوغ، والإسلام، والحریة، وملک نصاب حولي، فارغ عن الدین وحاجته الأصلیة نام ولو تقدیراً۔
(۳۵۳/۲- ۳۵۵، کتاب الزکوٰة)
ما في ” النتف في الفتاوی للسغدي “ : وأما التي في المال: أحدهما: النصاب الکامل، ونصاب الذهب عشرون مثقالا، ونصاب الفضّة مائتادرهم۔
(ص:۱۰۹، کتاب الزکاة، شروطها في المال النصاب)
ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : الزکوٰة واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم، إذا ملک نصاباً ملکاً تامًا۔ (۳/۲، کتاب الزکاة، الهدایة:۱۸/۱، کتاب الزکاة)
ما في ” الفقه الحنفي في ثوبه الجدید “ : وحولان الحول علی النصاب شرطٌ لوجوب الزکاة فیه، والمراد الحول القمري۔(۳۵۶/۱، کتاب الزکاة، سبب افتراض الزکاة)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۸۶۶۵)
