مسئلہ:
اگر کسی شخص کی ساس مستحقِ زکوة ہو، تو وہ اُسے زکوة دے سکتا ہے، بلکہ یہ دوہرے اجر کا باعث ہے، ایک اجر صلہ رحمی پر، دوسرا زکوة پر(۱)، البتہ زکوة کی رقم سے اپنی ساس کو حج وعمرہ کرادینے سے زکوة ادا نہیں ہوتی، لیکن اگر ساس کو زکوة کی رقم دی جائے اور وہ اس رقم کی مالک بن جانے کے بعد اس سے حج وعمرہ کرے ، تو اسے اختیار ہے، البتہ کسی ایک فرد کو زکوة کی اتنی رقم دینا کہ اس کی ضروریات پوری ہوکر ، اتنی رقم بچ جائے جس سے وہ صاحبِ نصاب بن جائے، حضراتِ فقہاء کرام نے اسے مکروہ لکھا ہے، تاہم اس صورت میں بھی زکوة ادا ہوجاتی ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” البحر الرائق “ : لا یجوز الدفع إلی أبیه وحده وإن علا ۔۔۔۔۔ لأن من سواهم من القرابة یجوز الدفع لهم، وهو أولی لما فیه من الصلة مع الصدقة۔ اه ۔
(۴۲۵/۲، کتاب الزکاة، باب المصرف، بیروت)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وکره إعطاء فقیر نصابًا) أو أکثر ۔ الدر المختار۔ (۳۰۳/۳، کتاب الزکاة، باب المصرف)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۱۲۷۷)
