مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں متعدد عمرے کرنا درست نہیں ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ ایک سفر میں متعدد عمرے کیے جاسکتے ہیں(۱)، البتہ غنیة الناسک میں لکھا ہے کہ ”زیادہ طواف کرنا زیادہ عمرہ کرنے سے افضل ہے“(۲)، جس سے زیادہ طواف کی افضلیت تو ثابت ہوتی ہے، مگر زیادہ عمروں کا عدم جواز ثابت نہیں ہوتا، لہذا ایک ہی سفر میں کئی عمرے کیے جاسکتے ہیں،جن کے احرام کے لیے کسی بھی قریبی میقات پر جاسکتے ہیں، جن میں سے ایک مسجد عائشہ بھی ہے، علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مقامِ تنعیم پر جاکر احرام باندھنا افضل ہے، جو مکہ مکرمہ سے قریب مسجد عائشہ کے نزدیک ہے، اور یہ سب سے قریبی میقات ہے، عمرہ کے لیے یہاں سے احرام باندھنا دیگر میقات مثلاً جعرانہ وغیرہ سے احرام باندھنے سے افضل ہے“۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : العمرة عندنا سنة ولیست بواجبة ویجوز تکرارها في السنة الواحدة، ووقتها جمیع السنة إلا خمسة أیام تکره فیها العمرة لغیر القارن ۔ کذا في فتاوی قاضیخان۔ (۲۳۷/۱، الباب السادس في العمرة)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : یستحب الإکثار من العمرة، ولا یکره تکرارها في السنة الواحدة عند الجمهور ۔۔۔ وهو قول علي وابن عمر وابن عباس وأنس وعائشة رضي الله تعالی عنهم وعطاء وطاوس وعکرمة رحمهم الله، وتدل لهم الأحادیث الواردة في فضل العمرة، والحث علیها، فإنها مطلقة تتناول تکرار الجماعة تحث علیه۔
(۳۲۵/۳۰، عمرة، الإکثار من العمرة)
(۲) ما في ” غنیة الناسک “ : إکثار الطواف أفضل من إکثار الاعتمار۔(ص:۱۰۷، بحواله کتاب الفتاوی:۷۴/۴)
(۳) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : والمیقات لمن بمکة یعني من بداخل الحرم للحج الحرم وللعمرة الحل لیحقق نوع سفر، والتنعیم أفضل ۔ تنویر مع الدر ۔ قال الشامي: قوله: (والتنعیم أفضل) هو موضع قریب من مکة عند مسجد عائشة، وهو أقرب موضع من الحل، أي الإحرام منه للعمرة أفضل من الإحرام لها من الجعرانة وغیرها من الحل عندنا، وإن کان ﷺ أحرم منها، لأمره علیه الصلاة والسلام عبد الرحمن بأن یذهب بأخته عائشة إلی التنعیم لتحرم منه، والدلیل القولي مقدم عندنا علی الفعلي۔
(۴۲۹/۳، کتاب الحج، مطلب في المواقیت)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۲۳۳۸، فتاویٰ حقانیه:۲۸۰/۴، کتاب الفتاویٰ:۷۴/۴)
