مسئلہ:
اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے بعداس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے ، تو شرعاً اسے بھی ذبح کرنے کا حکم ہے(۱)، لیکن اگر کسی شخص نے اس بچہ کو ذبح کرنے کے بجائے پال لیا، اور اس کے بڑے ہونے پر، اپنے اوپر واجب قربانی میں اس کو ذبح کیا، تو اس کی واجب قربانی ادا نہ ہوگی، اس کا پورا گوشت صدقہ کرنا لازم ہوگا، اور اس شخص پر اس کی جگہ دوسری قربانی بھی واجب ہوگی۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : فإن خرج من بطنها حیاً فالعامة أنه یفعل به ما یفعل بالأم۔ (۳۰۱/۵)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولدت الأضحیة ولداً قبل الذبح یذبح الولد معها ۔ الدر المختار۔ قال الشامي تحت قوله: (قبل الذبح) فإن خرج من بطنها حیاً فالعامة أنه یفعل به ما یفعل بالأم۔ (۳۹۱/۹، کتاب الأضحیة)
(۲) ما في ” رد المحتار “ : قال الشامي: فإن بقي عنده وذبحه للعام القابل أضحیة لا یجوز وعلیه أخری لعامة الذي ضحّی، ویتصدق به مذبوحاً مع قیمة ما نقص بالذبح، والفتوی علی هذا۔ (۳۹۱/۹، کتاب الأضحیة)
ما في ” الهندیة “ : وإن بقي الولد عنده حتی کبر وذبحه للعام القابل أضحیة لا یجوز وعلیه أخری لعامه الذي ضحی، ویتصدق به مذبوحاً مع قیمة ما نقص بالذبح، والفتوی علی هذا، کذا في فتاوی قاضیخان۔ (۳۰۲/۵، الباب السادس)
