عقیقہ کے گوشت کی تقسیم

مسئلہ:

عقیقہ کے گوشت کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرکے ،ایک حصہ فقراء ومساکین کو ، دوسرا عزیز رشتہ داروں کو، اور تیسرا حصہ اپنے گھر میں استعمال کرلیا جائے، اور اگر کوئی شخص سارا گوشت گھر میں بنا کر عزیز رشتہ داروں کی دعوت کرے، تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” اعلاء السنن “ : وسبیلها في الأکل والهدیة والصدقة سبیل الأضحیة ۔ اه۔(۱۴۰/۱۷، تحت رقم الحدیث:۵۵۱۴، باب أفضلیة ذبح الشاة في العقیقة، بیروت )

ما في ” رد المحتار “ : قال في البدائع: والأفضل أن یتصدق بالثلث، ویتخذ الثلث ضیافة لأقربائه وأصدقائه، ویدّخر الثلث، ویستحب أن یأکل منها۔

(۴۷۴/۹، کتاب الأضحیة، ط: دار الکتب العلمیة بیروت، ۳۲۸/۶، ط: دار الفکر، بدائع الصنائع:۳۲۹/۶، التضحیة، ط: دار الکتب العلمیة بیروت، ۸۰/۵، ط: دار الکتاب العربي)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۸۳۵۸)

اوپر تک سکرول کریں۔