شوہر کی طرف سے مطلقہ مغلظہ کی مالی معاونت

مسئلہ:

بسا اوقات میاں بیوی کے آپسی جھگڑے میں مرد غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے، اور اب بدونِ حلالہ دو بارہ نکاح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، جب کہ ایک غیرت مند عورت حلالہ کو کسی بھی طرح پسند نہیں کرتی، اور اس کا کوئی سہارا بھی نہیں ہوتا، نہ کوئی مکان، جس میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنی بقیہ زندگی گذارسکے، اور نہ تووہ دوسری شادی کے لیے آمادہ ہوتی ہے، ایسے حالات میں شوہر کو اپنی اس سابقہ بیوی کی حالت دیکھی نہیں جاتی، اور وہ اس کے لیے مکان اور گذر بسر کے لیے کچھ مالی تعاون کرنا چاہتا ہے، تو لوگ اسے کہتے ہیں کہ طلاق کی صورت میں اب کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ، خواہ وہ اخلاقی ہی کیوں نہ ہو، اس عورت کے ساتھ جائز نہیں ہے،عوام الناس کا یہ خیال غلط ہے، صحیح یہ ہے کہ اگر مرد اس عورت کے لیے اپنا مکان خالی کردے اور خود دوسری جگہ رہائش اختیار کرلے، تو وہ اپنے بچوں کے ساتھ اس گھر میں رہ سکتی ہے، اورشوہرِ سابق اس کی مالی معاونت بھی کرسکتا ہے، مگر جب بھی وہ اپنے بچوں کے پاس آئے، تو اجنبی غیر محرم کی طرح اس گھر میں رہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الهندیة “ : إذا طلقها ثلاثاً أو واحدة بائنة، ولیس له إلا بیت واحد فینبغي له أن یجعل بینه وبینها حجاباً حتی لا تقع الخلوة بینه وبین الأجنبیة، فإن کان فاسقاً یخاف علیها منه، فإنها تخرج وتسکن منزلا آخر، وإن خرج الزوج وترکها فهو أولی۔

(۵۳۵/۱، کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ط: دار الفکر بیروت، ومکتبه رشیدیه کوئٹه، ومکتبه زکریا دیوبند)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۹۲۵۱)

اوپر تک سکرول کریں۔