مسئلہ:
اگر کوئی شخص کسی سے کوئی مکان یا زمین خریدے، پھر خریدار قیمت کا ایک حصہ مثلاً ۲۵/ ہزار روپئے میں سے چار ہزار روپئے بطورِ بیعانہ دیدے، اور بقیہ قیمت فراہم کرنے کے لیے چھ ماہ کا موقع مانگے، اور طرفین کی رضامندی سے یہ بات طے پائے کہ اگر چھ ماہ گزر جانے پر خریدار بقیہ قیمت ادا کرکے، مکان یا زمین کا بیع نامہ نہیں کراتا، تو جو چار ہزار روپئے بطورِ بیعانہ کے دیئے گئے وہ ضبط ہوجائیں گے۔بیع کی اس صورت میں چھ ماہ کا موقع گزر جانے اور خریدار کے بقیہ قیمت فراہم کرکے بیع نامہ کرالینے میں نامراد ہوجانے پر بائع (بیچنے والے شخص) پر بیعانہ کی رقم کا واپس کرنا واجب ہے، اور بیعانہ کے ضبط ہوجانے کا جو معاہدہ کیا گیا تھا وہ خلافِ شرع ہونے کی وجہ سے اُس کی پابندی لازم نہیں ہے، بلکہ اس معاہدہ کا توڑنا ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” بذل المجهود “ : قلت: ویردّ العربان إذا ترک العقد علی کل حال بالاتفاق۔ (۲۲۱/۱۱)
ما في ” عون المعبود “ : وروي عن ابن عمر وجماعة من التابعین إجازته ویردّ العُربان علی کل حال۔ (ص:۱۴۹۸)
(فتاویٰ محمودیه:۲۰۴/۲۴، میرٹھ)
